سیلاب میں زچگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سانگھڑ سے میرپورخاص آتے ہوئے روڈ کے دونوں طرف سیم نالے کے شگاف اور بارش کا پانی موجود ہے، جگہ جگہ مردار جانور بھی نظر آرہے تھے۔

اس پورے منظر میں سندھڑی کے قریب ایک خاتون بچے کو ہاتھ میں لیئے تیزی کے ساتھ آگے جارہی تھی، میں نے انہیں روک کر پوچھا وہ کہاں سے آرہی ہیں تو انہوں نے ایک کلومیٹر دور واقع بس اسٹاپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’ صاحب نے کہا ہے کہ شناختی کارڈ لیکر آؤ راشن کے لیے تمہارے نام کا اندراج کرتے ہیں۔

مسماۃ رانی حاملہ ہیں اور گزشتہ بیس دنوں سے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی ہوئی ہیں، دو ماہ کے بعد ان کی یہاں زچگی کا امکان ہے ُُ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منظوراں کے بچے کو ٹیکے نہیں لگ سکے

مسماۃ رانی سے میں نے پوچھا کہ کیا انہوں نے سوچا ہے کہ ان کی زچگی کیسے ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ جو دنیا میں ہیں پہلے ان کی فکر رلیں جو آیا ہی نہیں ہے اس کی فکر کیا، یہ کہہ کر وہ آگے روانہ ہوگئی ۔

سیلاب سے متاثرہ افراد میں خواتین کی تعداد اکتیس لاکھ ہے، حکومت کی جانب سے بنائے گئے کیمپوں اور سڑکوں پر بیٹھے ہوئے متاثرین میں کئی حاملہ خواتین موجود ہیں، جنہیں لیٹنے کی تو دور کی بات بیٹھنے کی بھی جگہ دستیاب نہیں۔

بدین، میرپورخاص اور سانگھڑ میں جہاں بھی ان خواتین سے بات ہوئی تمام ہی کا یہ کہنا تھا کہ ان کا ابھی تک اندراج نہیں کیا گیا اور نہ کوئی دوا یا خوراک فراہم کی گئی ہے۔

مسماۃ خیراں کا تعلق پنگریو شہر سے ہے جہاں اس وقت پندرہ فٹ پانی موجود ہے ان کی بچی کی ولادت بارش کے دوران ہوئی ہے وہ اس وقت ٹنڈو باگو کے باہر ایک کیمپ میں موجود ہیں، ان کی بچی کو کوئی قطرہ پلانے یا ویکیسن کے لیے نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ بچوں اور عورتوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں

سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے کیمپوں میں متاثرین کو تیز مصالحے والے چاول فراہم کیے جا رہے ہیں، بدین میں ایک نو مولود بچے کی ماں منظوراں بھی یہ ہی چاول کھاتے ہوئے نظر آئی، انہوں نے شکایت کہ یہ چاول کھانے سے پیٹ میں درد تو کبھی پیٹ کی خرابی ہوتی ہے مگر کیا کریں غریب ہیں بس یہ ہی کھا رہے ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق سو سے زائد صحت مراکز زیر آب ہیں، مگر یہاں مریضوں کا رش ہے۔ ایسے ہی صحت مرکز کے انچارج ڈاکٹر لیکھراج سے نے بتایا کہ ابھی تک ان کے پاس ان خواتین کو خوراک فراہم کرنے یا طاقت وغیرہ کی دوائیں فراہم کرنے کے لیے کسی ادارے نے رابطے نہیں کیا ہے۔ وہ معمول کی دوائیں فراہم کر رہے ہیں۔

دیہی علاقوں میں عام حالات میں بھی لیڈی ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتیں یہ سہولت صرف شہروں تک محدود ہے۔ محکمہ صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری سکندر پھنور کا کہنا ہے ماں اور بچے کی صحت کا ایک پورا پروگرام ہے۔ اس پروگرام کو فیلڈ ایریا میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ گشتی ٹیمیں بھی ہیں اس کے ساتھ تحصیل اور ضلعی ہپستالوں میں بھی گنجائش بڑہائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خیراں کے ہاں ولادت سیلاب کے دوران ہوئی

متاثرہ علاقوں کے دوروں سے معلوم ہوتا ہے کہ خوراک اور صحت کے شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی اولیت میں ابھی حاملہ خواتین شامل نہیں ہوسکی ہیں، اس لیے ان کی حقیقی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔

بین الاقوامی ادارے پہلے ہی اپنی رپورٹس میں متنبہ کرچکے ہیں کہ ناقص خوراک اور آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث لوگوں میں بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جس کا شکار بچے اور حاملہ خواتین پہلے بنیں گی۔

اسی بارے میں