خیبر: چیک پوسٹ پر حملہ، چودہ افراد ہلاک

Image caption خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ خاصہ دار فورس اور امن لشکر کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں بھی دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی صُبح باڑہ تحصیل کے ایک شورش ذدہ علاقے اکا خیل میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں مُسلح عسکریت پسندوں نے صُبح کے وقت درو آڈہ نامی کے علاقے میں خاصہ دار فورس اور طالبان مخالف امن لشکر کے ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔

حملے میں وہاں ڈیوٹی پر موجود خاصہ فورس کے ایک اہلکار اور امن کمیٹی کے تین رضاکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل اہلکار کے مطابق حملے کے بعد اکا خیل کے علاقے میں موجود سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ کارروائی کے نتیجے میں دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ چند مسلح افراد نے چیک پوسٹ کے قریب آ کر فائرنگ کی جبکہ ان کے دیگر ساتھی اردگرد مورچہ زن تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں چیک کے قریب کھڑی دو گاڑیوں پر راکٹ کے گولے گرنے سے دونوں گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔

خیال رہے کہ درو آڈہ سکیورٹی چیک پوسٹ باڑہ بازار سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے اور بتایا جاتا ہے کہ پہلی دفعہ اس چیک پوسٹ پر امن لشکر کے رضا کاروں کو تعینات کیاگیا تھا۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سنیچر کو بھی باڑہ کے علاقے اکاخیل میں سکیورٹی فورسز نے دو قبائل کے مکانات کو بارودی دھماکوں سے تباہ کر دیا تھا۔

اسی بارے میں