’جیل کے اندر بھی شدت پسند سرگرم‘

ائی ایس آئی کی بلڈنگ پر حملے کی فوٹو
Image caption جن جیلوں کا ذکر کیا گیا ہے اُن میں پشاور ، راولپنڈی ، بہاولپور اور کوئٹہ کی سینٹرل جیلیں شامل ہیں

پاکستان کے خفیہ اداروں نے ملک کی چار ایسی جیلوں کے حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے جہاں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد جیل کے اندر سے ہی شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے احکامات جاری کر ر ہے ہیں۔

خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جن جیلوں کا ذکر کیا گیا ہے اُن میں پشاور ، راولپنڈی ، بہاولپور اور کوئٹہ کی سینٹرل جیلیں شامل ہیں۔ تاہم جیل خانہ جات کے عملے نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سویلین اور فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے کچھ رپورٹس بھیجی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ گُزشتہ دو ماہ کے دوران وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقوں اور ملک کے دیگر علاقوں میں شدت پسندی کے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے احکامات جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں میں اہم عہدوں پر فائز افراد نے دیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس میں چند روز قبل قبائلی علاقے میں ایک جنازے پر ہونے والے خودکش حملے کے علاوہ پشاور میں ہونے والے بم دھماکے اور کوئٹہ میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے ڈی آئی جی پر ہونے والے خودکش حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اگرچہ مذکورہ بالا جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو الگ حصوں میں رکھا گیا ہے لیکن وہاں پر یہ افراد آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور بہاالپور کی سینٹرل جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد قید ہے۔

ان میں جی ایچ کیو، ممبئی حملہ سازش تیار کرنے کے مقدمے کے ملزمان کے علاوہ کامرہ اور واہ ارڈیننس فیکٹری کے باہر ہونے والے خودکش حملوں، لاہور میں ایف ائی اے اور نیول وار کالج کے باہر ہونے والے حملوں کے مقدمات کے ملزمان بھی قید ہیں۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نہ صرف جیل حکام کو مبینہ طور پر پیسے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ اُنہیں اور اُن کے اہلخانہ کو بھی ڈارنے دھمکانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ان جیلوں میں قید کالعدم تنظیوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جیلوں کے اندر بھی گروپ بندیاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحریک طالبان، غازی فورس اور لشکری جھنگوی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مبینہ طور پر ایک اپنا گروہ بنایا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے لوگ ہیں ان گروہوں کے درمیاں شدید اختلافات ہیں جو کسی بھی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

اس بات کی نشاندہی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں گرفتار ایک ملزم رشید احمد کے وکیل نے بھی کی ہے تاہم جیل کے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

خفیہ اداروں کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس سے متعلق صوبہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے محکمہ جیل خانہ جات کے عملے سے رابطہ کرکے پوچھا گیا تو اُنہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں