سوات: تین مبینہ شدت پسند گرفتار

فائل فوٹو
Image caption سوات میں رواں ماہ سکیورٹی ایک مرتبہ پھر سخت کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی وادی سوات میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں تین شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سوات سے مقامی صحافی انور شاہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقے مالم جبا بنجوٹ میں ایک کارروائی کے دوران ان شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

یہ شدت پسند مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز اور مقامی امن لشکر پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

سوات میں سکیورٹی سخت، سرچ آپریشن

واضح رہے کہ سوات میں رواں ماہ کی چھ تاریخ کو شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی کے انتظامات ایک مرتبہ پھر سخت کردیئے گئے تھے اور کئی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔

اس وقت سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان کرنل عارف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دو دن پہلے پہاڑی علاقے منگلوار میں پیش بند کے مقام شدت پسندوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس پر کارروائی کی گئی اور اس دوران دو شدت پسند مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات عسکریت پسند باجوڑ ایجنسی اور دیر کی سرحد سے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا پہاڑی علاقوں میں قائم غاروں میں پناہ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن تیز کردیا گیا ہے۔ کرنل عارف کے مطابق ان واقعات کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات میں معمول سے ہٹ کر اضافہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ دہشت گردی کے واقعات کو روکا جاسکے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں پچھلے چند ہفتوں سے سکیورٹی چیک پوسٹوں پر تلاشی کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں پچھلے آٹھ دس ماہ کے دوران پہلی بار ہلاکتوں کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ اس سے پہلے رمضان کے ماہ میں بھی ایک مبینہ خودکش حملہ آوار کو مسجد کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں