نام کے چوہدری، اسلم خان نشانے پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں چوہدری اسلم کی رہائش گاہ کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کا نا تو پنجاب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ چوہدری ہیں لیکن لوگ انہیں چوہدری اسلم کے نام سے ہی جانتے ہیں کیونکہ ان کا لباس اور چال ڈھال چوہدریوں والی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی و فوجی شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے چوہدری اسلم کا اصل نام محمد اسلم خان ہے۔ ان کے بارے میں ٹویٹ پر ایک شخص نے رائے دیتے ہوئے کہا ’یہ معـجزے سے کم نہیں کہ چوہدری اسلم زندہ ہیں۔ لیاری سے وزیرستان تک بہت سے لوگ ہیں جو انہیں مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے بارے میں کسی بھی سیاسی جماعت یا شدت پسند تنظیم کی اچھی رائے نہ ہونا ہے۔ کیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کیا لشکر جھنگوی وہ اپنی کارروائیوں کی وجہ سے سب کے دشمن قرار دیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی وجہ سے بھی ان کے بارے میں سیاسی جماعتیں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتی ہیں۔

چوہدری اسلم نے سپرنٹینڈینٹ پولیس کے عہدے تک ترقی اپنی کارکردگی اور تعلقات کی وجہ سے حاصل کی۔ ایسے لوگوں کو سرکاری حلقوں میں رینکر کہا جاتا ہے۔ تاہم چوہدری اسلم نے انیس سو چوراسی میں سندھ ریزرو پولیس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملازمت اختیار کی تھی۔

ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں موبائل فون میں نمبر محفوظ کرنا نہیں آتا لیکن جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں بڑا نام رکھتے ہیں۔ انہیں اچھی خاصی شہرت لیاری ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر ہونے کے بعد حاصل ہوئی تھی۔

تاہم جرائم پیشہ افراد کے خلاف کراچی میں انیس سو بانوے اور چھیانوے کے آپریشن میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ لیاری میں ہی جرائم پیشہ گروہ کے مبینہ سرغنہ رحمان ڈکیت کے ساتھ ان کی اکثر مڈبھیڑ رہتی تھی۔ ان پر ماورائے عدالت قتل کے بھی کئی الزامات لگائے گئے۔ البتہ ان الزامات کی تحقیقات کے بعد انہیں بےقصور قرار دیا گیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے حملے کے چند گھنٹوں بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں چوہدری اسلم پر حملے کی وجہ ان کے ہاتھوں کئی ’طالبان بھائیوں‘ کا قتل ہے۔ اس پیغام میں ٹی ٹی پی نے بعض دیگر پولیس اہلکاروں کے نام بھی لیے ہیں جو بقول ان کے طالبان کی ’ہٹ لسٹ‘ پر ہیں۔

تاہم چوہدری اسلم کا نام بطور مبینہ ’یہودی ایجنٹ‘ کے کچھ عرصہ قبل شدت پسندوں کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دستی پیغام یا پمفلٹ میں بطور ٹارگٹ آیا تھا۔ کراچی میں ہی سی آئی ڈی کے دفاتر پر نومبر دو ہزار دس کے حملے کے بعد شدت پسندوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں چوہدری اسلم کا ذکر تھا۔

اس کی وجہ چوہدری اسلم کا کراچی میں موجود شدت پسندوں کے خلاف ان گنت کارروائیوں میں حصہ لینا اور دہشت گردی کی کئی وارداتوں کو ناکام بنانا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ کراچی میں ناصرف موجود شدت پسندوں کے ایک ایسے گروہ کے خلاف سرگرم تھے جو وزیرستان کے طالبان کے مددگار کے طور پر کام کرتا تھا بلکہ فرقہ ورانہ کارروائیوں میں ملوث افراد بھی ان کے نشانے پر تھے۔

یہ گروہ ناصرف کراچی میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی بلکہ خودکش حملہ آوروں کی آمد و رفت اور تربیت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔

چوہدری اسلم کی رہائش پر حملے کے فوراً بعد تحریک طالبان کے بیان سے قبل بی بی سی کو کسی شخص نے فون کر کے اپنے آپ کو المختار گروپ کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کی۔ اس سے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس حملے میں پنجابی طالبان ملوث ہوسکتے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر شدت پسند فرقہ ورانہ حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

اس حملے کے بعد غصے سے نیلے پیلے چوہدری اسلم نے صحافیوں کے سامنے کہا کہ وہ قیامت تک نہیں چھوڑیں گے۔ چوہدری اسلم کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کامیاب کارروائی کا ماضی کا ریکارڈ مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ ان حملہ آوروں کو بھی بےنقاب کر پاتے ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں