پشاور: قدیم مندر میں پوجا کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مندر میں پوچا کی اجازت ملنے پر مقامی ہندو خوش ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاکستانی ہندوؤں کوایک سو ساٹھ سال پُرانے مندر میں عبادت کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن ابھی ان کو چابیاں نہیں ملی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس وقار احمد سہٹی پر مُشتمل دو رُکنی بینچ نے یہ حکم ایک ہندو خاتون پھول ویٹی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر دیا۔ عدالتی حکم کے مطابق مندر کی حفاظت حکومت کے کنٹرول میں رہے گی جبکہ مندر کی باقاعدہ سکیورٹی وزارت داخلہ کے سُپرد کی گئی ہے۔

ہندوؤں کی عبادت کے لیے بنائے گئے اس مندر کی عمارت ایک سو ساٹھ سال پُرانی ہے جبکہ تاریخی اعتبار سے پوجا کرنے والے مقامی ہندوؤں کے لیے بُہت زیادہ اہم ہے۔ یہ مندر اگر ایک جانب بُہت پُرانا ہے تو دوسری طرف پشاور شہر کی مشہور تحصیل گور کھٹڑی کے اندر واقع ہے۔

گورکھٹڑی کمپلیکس کے انچارج بخت محمد نے بتایا کہ یہ مندر اٹھارہ سو چونتیس اور اٹھارہ سو اُنچاس کے درمیان ہندوؤں کے ایک مذہبی رہنماء گورت ناک کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ تحصیل گورکھٹڑی آثار قدیمہ کا پارک ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے یہ مندر بند تھا اس دوران اس کے کئی حصے منہدم ہوچکے تھے تاہم حکومت کی جانب سے گورکھٹڑی پارک میں آثار قدیمہ کی مرمت کے لیے اکیس لاکھ روپے کی منظوری سے اس مندر کے تباہ شدہ حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مندر کا کنٹرول اب محکمہ آثار قدیمہ کے ہاتھوں میں ہے۔ البتہ اس سے پہلے یہ مندر پولیس کے زیرِ استعمال تھا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ جب سے پولیس نے اس کا قبضہ ختم کیا ہے اور محمکہ آثار قدیمہ کے پاس اس کا کنٹرول چلا گیا ہے تب سے ہی ہندوؤں کو عبادت کے لیے اجازت تھی لیکن اتنا عام نہیں جس طرح کہ ایک مُسلمان کسی مسجد میں عبادت کے لیے جاتا ہے۔

مندر کُھلوانے کے لیے بھاگ دوڑ میں شامل رمیش لعل کا کہنا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کا شُکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ مندر پچاس سال سے بند تھا اور پولیس نے اس پر قبضہ کر رکھا تھا اور انہیں عبادت کے لیے یہاں سے مانسہرہ جانا پڑتا تھا۔اب وہ خوش ہیں کہ قریب ہی مندر میں عبادت کی اجازت مل گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہندو برادری کو اب تک چابیاں نہیں ملی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کو وہ ہمیں چابیاں دے تاکہ چندہ اکٹھا کر کے مندر کے خستہ حال حصوں کی مرمت کرائی جاسکے یا حکومت خود اس کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندو برادری مندر کی چابیوں کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔

چابیوں کے سوال کے جواب میں سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ہندوؤں کو صرف عبادت کی اجازت ہوگی اس کے علاوہ وہ نہ اپنے پاس چابیاں رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی منہدم حصے کی تعمیر کی اجازت ہوگی۔

رمیش لعل کا کہنا تھا کہ مندر میں پوجا تو کرنی ہے لیکن مندر میں مورتیاں اور دیگر چیزیں نہیں ہیں اور ان کو مندر کے اندر کافی چیزوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مندر کے اندر کے حالت بُہت خراب ہے اور اب تک مندر میں پوچا شروع نہیں ہوئی ہے کیونکہ چابیاں گورکھٹڑی کے انچارج کے پاس ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے چابیاں حاصل کرنے کے لیے عدالت میں ایک اور درخواست دائر کی ہے۔اگر چابیاں انچارج کے پاس رہیں گی تو اس کا مقصد ہے کہ ہندو آزادی کے ساتھ عبادت نہیں کرسکتے ہیں۔

پینتیس سالہ شاداب کا کہنا ہے کہ یہ مندر ان کی پیدائش سے پہلے سے بند پڑا ہے۔ ان کی چھوٹی عمر سے یہ خواہش تھی کہ مندر کو عبادت کے لیے کھول دیا جائے اب ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مندر کے بند ہونے سے ہندؤوں کو عبادت کے لیے بُہت تکلیف کا سامنا تھا اور وہ یہاں سے دوسرے شہروں کی عبادت گاہوں کو جاتے تھے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے تو مندر میں ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دے دی ہے لیکن دوسری طرف چابیوں کا معاملہ اب تک حل نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں