پشاور میں دھماکہ، پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم سے کرایا گیا۔

پاکستان کے صوبۂ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں سی ڈیز کی ایک دوکان کے سامنے ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام پشاور شہر کی معروف میوزک مارکیٹ نشترآباد میں فلمیں فروخت کرنے والی ایک دوکان کے سامنے پیش آیا۔

گل بہار پولیس تھانہ کے ایک اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد مارکیٹ میں سی ڈیز کی ایک دوکان کے سامنے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک جبکہ تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے جن میں آٹھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم سے کرایا گیا اور اس میں آٹھ سے دس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

نشترآباد، پشاور شہر کا ایک مشہور میوزک بازار سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس مارکیٹ میں سی ڈیز کی دوکانوں پر دو تین مرتبہ بم دھماکے کیے جاچکے ہیں۔ تین چار سال قبل جب طالبان عروج پر تھے تو صوبے کے مختلف شہروں میں سی ڈیز کی دوکانوں پر حملے ایک معمول بن چکا تھا۔

خیال رہے کہ دو ہفتے پہلے پشاور پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ شدت پسند کسی بھی شہر میں کوئی بڑی کاروائی کرسکتے ہیں جس کے بعد شہر میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیے گئے تھے اور مختلف مقامات پر ناکوں اور چیک پوسٹوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔

ان اطلاعات کے باعث شہر کے اہم تجارتی مراکز کو دو دن کےلیے بند کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں