آخری وقت اشاعت:  پير 19 ستمبر 2011 ,‭ 08:56 GMT 13:56 PST

کراچی:پولیس افسر کی رہائش گاہ پر خودکش حملہ

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کراچی میں سی آئی ڈی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چودھری اسلم کی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حملہ پیر کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب اس وقت ہوا جب بارود سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع چودھری اسلم کے مکان کے گیٹ سے ٹکرا دی۔

کلِک کراچی میں خودکش حملہ: تصاویر

سی آئی ڈی کے ایس ایس پی چودھری اسلم نے بی بی سی اردو کے ارمان صابر سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے جس سے میرا گھر تباہ ہوگیا ہے‘۔ چودھری اسلم نے، جن کا اصل نام محمد اسلم خان ہے، بتایا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے بعد اپنےگھر پہنچ کر سوئے تھے کہ دھماکہ ہوا۔

چودھری اسلم کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے بھی طالبان کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ان کےگھر اور بچوں پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بزدلانہ کارروائیوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

خودکش حملے میں تین سو کلو سے زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی سعود مرزا

موقع پر موجود ایڈیشنل آئی جی اور سی سی پی او سعود مرزا نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس خودکش حملے میں تین سو کلو سے زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں چھ پولیس اہلکار اور دو عام شہری ہیں جبکہ جناح ہسپتال کے حکام کے مطابق دھماکے میں تین پولیس اہلکار اور پانچ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

جناح ہسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن کاظمی کو بتایا کہ ہسپتال میں آٹھ لاشوں اور چار زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے تین زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ ایک زخمی اس وقت زیرِ علاج ہے۔

ہسپتال کے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر جگدیش کے مطابق مرنے والے افراد کی شناخت ہو گئی ہے اور ان میں تین پولیس اہلکار، چودھری اسلم کا خانساماں نظام الدین، ان کے ہمسائے کا ڈرائیور اور اس کا بیٹا اور دھماکے کے وقت قریب سے گزرنے والی خاتون اور ان کا بیٹا شامل ہیں۔

اس سے قبل ڈی آئی جی ساؤتھ کمانڈر شوکت نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرنے والوں میں مکان پر ڈیوٹی دینے والے چھ پولیس اہلکار اور جائے حادثہ کے قریب واقع ایک سکول جانے والی خاتون اور اس کا بیٹا شامل ہیں۔

۔دھماکے سے قرب و جوار میں واقع مکانات کے شیشے ٹوٹ بھی گئے

ادھر تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ چودھری اسلم خان پر کیے جانے والے فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان طالبان کی ہلاکت کا بدلہ ہے جو چودھری اسلم کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل المختار گروپ نامی گروہ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ خود کو اس گروپ کا نمائندہ قرار دینے والے عبدالحمید نامی شخص نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو فون پر بتایا کہ یہ حملہ سی آئی ڈی کی جانب سے ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا ردعمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گروپ کا تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق تو ہے لیکن وہ باقاعدہ طور پر اس کا حصہ نہیں ہیں۔

دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے پولیس اہلکار شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق دھماکے کے باعث علاقے میں تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اور دھماکے سے چودھری اسلم کے مکان کا اگلا حصہ شدید متاثر ہوا ہے جبکہ مکان کا صدر دروازہ اور بیرونی دیوار مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔

ان کے پڑوس میں واقع مکان کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور اس میں کھڑی دو گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں ہیں۔دھماکے سے قرب و جوار میں واقع مکانات کے شیشے ٹوٹ بھی گئے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔

کراچی میں اس سے پہلے گزشتہ برس نومبر میں کراچی کے علاقے سول لائنز میں واقع سی آئی ڈی کی مرکزی عمارت پر بھی بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا گیا تھا جس میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔