اورکزئی میں جھڑپیں، شدت پسند ہلاک

Image caption اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسند اب بھی سرگرم ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک تازہ جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کم سے کم بیس عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح اپر اورکزئی ایجنسی کے تحصیل ڈبوری کے علاقے آرنگہ میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کو مُسلح عسکریت پسندوں کی موجودگی اطلاع ملی۔

انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کی اطلاع کے بعد سکیورٹی فورسز نے وہاں کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی میں بیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے پانچ ٹھکانوں کو تباہ کردیاگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کے حملے میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ شدت پسند اپنے ساتھیوں کے لاشوں کو اپنے ساتھ لےگئے ہیں اور اب شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے یہ دعوی کیا تھا کہ اپراورکزئی ایجنسی کو مسلح عسکریت پسندوں سے مکمل طورپر صاف کرکے وہاں حکومت کی عملداری بحال کردی گئی ہے۔

لیکن مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ پہاڑی مقامات پر اب بھی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں