مستونگ:شیعہ زائرین پر حملے، انتیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک شدگان میں سے بیشتر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں چھبیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کو ہسپتل منتقل کرنے والی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی ہے جس میں مزید تین افراد مارے گئے ہیں۔

شیعہ برادری نے واقعہ خلاف تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے زائرین کی ایک بس منگل کی شام کوئٹہ سے تفتان کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ جب بس مستونگ کے علاقے لکپاس کے قریب پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چھبیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

اس واقعہ کے بعد نامعلوم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کوئٹہ میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق زخمیوں کو فوری طورپر سول ہسپتال کوئٹہ، بولان میڈیکل کمپلیکس اور سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔

اس واقعے کے کچھ دیر بعد نامعلوم افراد نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی جس میں اس واقعے کے زخمیوں کو منتقل کیا جا رہا تھا۔ فائرنگ کے اس واقعے میں مزید تین افراد ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زائرین نے اپنے سفر سے متعلق حکومت بلوچستان کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا ایران جانے والے زائرین کی حفاظت کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے لیکن بلوچستان حکومت کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کی مختلف تنظیموں نے اس واقعہ کے خلاف تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ تحفظ عزادران کونسل بلوچستان کے سربراہ محمد رحیم جعفری نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کئی بار کوئٹہ سے ایران جانے والے زائرین کے تحفظ کے لیے حکومت سے سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوسکا۔

انہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کی ہے جبکہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ترجمان علی شیر حیدری نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کا سلسلہ دو ہزار تین میں شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے مختلف واقعات میں درجنوں شیعہ مارے جا چکے ہیں لیکن آج تک ان میں ملوث کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں