سیلاب زدہ علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبۂ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بی بی سی اردو کے متعدد رپورٹر ان متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ یہاں پر ان رپورٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔

(یہ صفحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا)

احمد رضا، بے نظیرآباد

نوابشاہ سکرنڈ روڈ پر متاثرینِ سیلاب کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج پولیس کی یقین دہانی کے بعد بدھ کی صبح ڈیڑھ بجے کے قریب ختم کردیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں امدادی اشیاء کی رسد کا بندوبست کیا جارہا ہے جس میں غذائی اشیاء اور صاف پانی بھی شامل ہے۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے اور شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی۔

ریاض سہیل، میرپور خاص

متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لیے امریکی ترقیاتی ادارہ یو ایس ایڈ بھی سرگرم ہوگیا ہے، امریکی قونصل جنرل جیسن کائٹ اور یوایس ایڈ کے ڈائریکٹر اینڈریو سیسن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپیل پر یہ معاونت کی جارہی ہے، جس کے تحت پچاس ہزار خاندانوں کو شیلٹر، پینے کا صاف پانی اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگیریشن اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے ذریعے بدین، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، تھر پارکر اور عمرکوٹ میں یہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

علی سلمان، سہون

لعل شہباز قلندر کے مزار کے گرد منگل کی رات پہنچا تو دیکھا کہ پررونق بازار کھلا ہے۔ کھانے پینے کی دکانوں پر ذبح شدہ مرغ الٹے لٹکے ہیں، کٹاکٹ اور کڑھائی بن رہی ہے اور لوگ کھا پی رہے ہیں اور یہ ذرا محسوس نہیں ہوتا کہ سہون سے محض چند میل کے فاصلے پر لوگ تباہی کا شکار ہیں اور بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔

احمد رضا، بے نظیرآباد

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع بینظیرآباد میں نوابشاہ سکرنڈ روڈ پر سینکڑوں مشتعل مظاہرین نے منگل کی رات دھرنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے خوراک نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے وہ بھوک اور پیاس سے مررہے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ مچھروں کی بہتات کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

مظاہرین کا احتجاج لانڈھی کے مقام پر ہورہا ہے جس کی وجہ سے کراچی آنے اور جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے بھی امداد نہ ملنے پر متاثرہ علاقوں میں مظاہرین نے پرتشدد مظاہرے کیے ہیں اور توڑپھوڑ کی ہے جن میں سے زیادہ تر کو پولیس نے منتشر کیا۔

نوابشاہ شہر میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ حکام اس بارے میں کچھ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔

اس شہر کو دو نہروں سے پانی فراہم کیا جاتا ہے جس میں بارش کا پانی جمع ہے اور وہ پانی پینے کے لائق نہیں ہے۔

شہر کے لیے فلٹرپلانٹ میں پینے کے پانی کا ذخیرہ عام طور سے پندرہ دن کے لیے ہوتا ہے جو کہ ختم ہوگیا ہے اور فلٹرپلانٹ کے تالاب جن کو نہر کے پانی سے فراہمی ہوتی ہے وہ بھی بند ہے۔ اب شہر کو جو پانی فراہم کیا جارہا ہے وہ آلودہ ہے اور اس سے بیماریوں کا خدشہ ہے۔

شہزاد ملک، بدین

بدین کی تحصیلوں ماتلی اور تلہار میں لوگ وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ منگل کی رات مقامی لوگوں کے مطابق ہیضہ اور اسہال سے چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ان تحصیلوں کے چند حصوں تک متاثرینِ سیلاب کو خوراک پہنچا دی گئی ہے تاہم پینے کے پانی کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے لوگ نلکوں کے پانی سے گزارہ کررہے ہیں جس میں بارش کے پانی کی آمیزش ہوچکی ہے۔

احمد رضا، بے نظیرآباد

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع شہید بے نظیر آباد کے صدر مقام نوابشاہ شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی ایک سے دو فٹ پانی جمع ہے۔

عظیم کالونی، جمالی کالونی، مہران کالونی، گلشن بھٹائی کالونی، خیرشاہ کالونی، پٹھان کالونی، سمیرہ کالونی، عوامی کالونی، امامیہ کالونی، چانڈیا کالونی، دولت کالونی، اریگیشن کالونی سمیت نواحی بستیوں میں سڑکیں اور گلیاں بدستور زیر آب ہیں جن میں گٹر کا پانی بھی شامل ہورہا ہے اور سخت تعفن اٹھ رہا ہے۔

ان علاقوں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں مچھروں کی بہتات اور تعفن نے ان کا جینا حرام کردیا ہے اور ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

شہر کے ضلعی افسر اعلی یعنی ڈی سی او کے دفتر اور رہائشگاہ کے علاوہ پولیس ہیڈ کوارٹر، سیشن کورٹ، سرکٹ ہاؤس، سرکاری ریسٹ ہاؤس اور قائد عوام انجیئرنگ یونیورسٹی میں اب تک دو سے تین فٹ پانی جمع ہے جس کی فوری نکاسی کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں گندے پانی کی وجہ سے پیٹ اور جلد کے امراض اور ملیریا پھیل رہا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں یا تو دوائیں نہیں ملتیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو وہ غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے بیماریوں کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہورہی ہیں۔

علی سلمان، کراچی

سیلاب کی کوریج کے لیے لاہور سے کراچی پہنچا اور اب اندرون سندھ کا سفر شروع ہے،وہی سندھ جو ہمیشہ سے مجھے بہت پراسرار لگتا ہے۔

میرے ذہن میں نہ جانے کیوں سندھ کی تصویر سندھی ٹوپیوں اور نوکیلی مونچھوں والے لوگوں، وڈیروں اور چھریرے بدن کے ڈاکوؤں کے مسکن کی ہے۔ لیکن یہ ان نوجوانوں اور لڑکیوں کی سرزمین بھی ہے جو محبت کی خاطر کاری ہونے کی پرواہ نہیں کرتے۔

یہ پیار محبت کرنے اور اللہ والوں کا علاقہ جو حضرت لعل شہباز قلندر کا ابدی مقام ہے۔ یہ اندرون سندھ کا میرا پہلا دورہ ہے،میرے ہمسفر اور ڈرائیور لمبی سفید داڑھی والے میاں جی خستہ گل ہیں۔

ان کا آبائی شہر سوات ہے اور میری طرح وہ بھی سندھ سے ناواقف ہیں۔ نہ انہیں سندھ کے راستوں کا پتہ ہے اور نہ ہی مجھے، نہ تو انہیں یہ علم ہے کہ کس علاقے میں رات کو سفر کرنا خطرناک ہے اور نہ ہی مجھے یہ آگہی ہے کہ سندھ کا کونسا علاقہ دن میں بھی محفوظ نہیں۔

مجھے کسی نے بتایا کہ یہ پنجاب نہیں ہے جہاں ہر پنجابی کو اردو سمجھ ضرور آتی ہے چاہے بولنی نہ بھی آتی ہو۔ میاں جی کو بھی میری طرح سندھی زبان نہیں آتی لیکن خیر ہے، ہم تو سیلاب کے ماروں کی بات سننے آئے ہیں۔ دکھ اور درد کی کوئی زبان نہیں ہوتی وہ تو محسوس کیا جاتا ہے۔

دوپہر کے بعد جام شور پہنچ جوشہر سے ساٹھ کلومیٹر دور ایک قصبے سن کا نواحی گاؤں کوٹائی چانڈیہ مرکزی شاہراہ سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ گاؤں مکمل طور پر تباہ حال ملا۔ ہر گھر کا کوئی نہ کوئی حصہ مسمارنظر آیا۔ گھروں میں پانی کھڑا ہوا ملا جس میں اب سرانڈ پیدا ہوچکی ہے۔

اس گاؤں اور اردگرد کے سینکڑوں دیہات کے مکینوں کا ذریعہ معاش کھیتوں میں مزدوری ہے لیکن کھیت پانی میں ڈوب چکے ہیں اور روزی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں رہ گیا۔محمد اسماعیل چانڈیو نے بخار میں پھنکتی اپنی ایک سالہ بچی کو گود میں اٹھایا اور کہا کہ یہ بچی بھوکی ہے اور گندہ پانی پی کر بیمار ہوئی ہے۔محمد اسماعیل چانڈیو اور اس کے دس بچوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔

شہزاد ملک، بدین

ٹنڈو محمد خان کی تحصیل ٹنڈو غلام حیدر کے یونین کونسل مویا میں چھ سے آٹھ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

لوگ پانی سے بچتے ہوئے اپنا ضروری سامان ساتھ لیے مال مویشیوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے چارپائیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک انھیں خوراک دستیاب نہیں کی جا سکی۔ یہ علاقہ پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر نوید قمر کا ہے لیکن لوگوں کو شکایت ہے کہ جو تھوڑی بہت خواراک ملتی ہے وہ سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر ملتی ہے۔ دور دراز کے علاقوں سے کچھ مخیر حضرات بھی لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء بھیج دیتے ہیں۔

سندھ کے سیلاب سے متاثرہ ضلع بدین میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک یعنی ڈبلیو ایف پی کے ایک اہلکار اجمل زادہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مناسب خوراک کی کمی بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔

اسی وجہ سے وہ متاثرین میں جو خوراک تقسیم کر رہے ہیں اس میں چھ ماہ سے دو سال عمر کے بچوں اور حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے خصوصی اشیاء بھی شامل ہیں۔

ستاسی کلو فی خاندان کے حساب سے دی جانے والے امداد میں چھوٹے بچوں کے لیے توانائی سے بھرپور ساڑھے چار کلو بسکٹ جبکہ ماؤں کے لیے گندم اور سویا ملی سات کلو خصوصی خوراک شامل ہے۔

یہ ادارہ ایک ماہ تک بدین اور ٹنڈو باگو کے تیس ہزار متاثرین کو خوراک مہیا کرے گا۔

ریاض سہیل، میر پور خاص

میرپورخاص کے شہر کوٹ غلام محمد میں بارش کے متاثرین نے امدادی سامان کی عدم دستیابی پر روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا۔اس احتجاج میں خواتین بھی شریک تھیں۔ اس کے علاوہ میرپورخاص سے تیس کلومیٹر دور کھپرو ابور ہتھونگو شہروں میں بھی متاثرین نے احتجاج کیا۔ بعد میں حکام نے انہیں امداد کی یقین دہانی کرا کے احتجاج ختم کرایا ہے۔

ادھر میرپورخاص سول ہپستال کے ڈاکٹروں نے منگل کو احتجاج کیا جس کے دروان ہپستال کے مرکزی گیٹ کے سامنے ٹائر بھی نذر آتش کیے گئے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہپستال میں ایک ہفتے سے بارش کا پانی موجود ہے جس کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال میں مریضوں اور ڈاکٹروں کو اندر آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

اس احتجاج کے باوجود مریضوں کی آمد جاری رہی اور اور ڈاکٹروں نے وہاں سڑک پر ہی انہیں دوائیں لکھ کر دیں۔

دوسری جانب سٹیشن روڈ، غریب آْباد، مہاجر کالونی اور دیگر علاقوں میں کئی فٹ پانی موجود ہے، جبکہ شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی کیچڑ جمع ہوگیا ہے۔

علی سلمان، جامشورو

جامشورو میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کے ملازمین کی کالونی میں متاثرین کے تین کیمپ ہیں جن میں چھ سو سے زائد متاثرین مقیم ہیں اور ان میں سے متعدد خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

کالج کی سٹاف ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذر حسین قریشی نے بتایا کہ ایک پچاس سالہ شخص اور دو بچوں کو ہپستال داخل کرایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں کوئی بیماری نہیں یہ بھوکے ہیں۔ انہیں مائع خوراک دو تو بچ جائیں گے۔

کالونی کے گرلز سکول میں قائم ایک کیمپ میں موجود عورت نے بتایا کہ دودھ اور صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے اس کے بچے سمیت اس کیمپ کے سولہ بچے بیمار پڑ چکے ہیں۔

لمز کالونی کچی آبادی کے محمد عنایت نے بتایا کہ ان کے کیمپ میں ایک ہفتے سے پانی نہیں آیا اور چالیس بچے اور بڑے بیمار ہو چکے ہیں۔ محمد عنایت نے بتایا کہ ان کا گاؤں ضلع سانگھڑ میں ہے اور وہ بمشکل یہاں تک پہنچ پائے ہیں۔ بوائز سکول میں ایک نوجوان نے کہا کہ ایک این جی والے آئے تھے اور انہیں گولیاں دے گئے ہیں اور کہا ہے کہ دس لیٹر گندے پانی میں ڈالو تو صاف ہو جاتا ہے لیکن یہی پانی پی کر اب تک چالیس چھوٹے بڑے افراد پیچش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

اور ہاں چلتے چلتے ایک بات اور۔۔۔۔۔۔وہ یہ کہ نذر قریشی نے بتایا کہ وہ صبح شام اس کیمپ میں ایک ایک ’ کٹا‘ لاتے ہیں جسے پکا کر لوگ گزارا کرتے ہیں۔ پنجابی میں’ کٹا‘ ، بھینس کے بچے کو کہتے ہیں، میں سمجھا کہ وہ بھینس کے بچے کاٹ کاٹ کر کھلا رہے ہیں۔ میر ی حیرانگی پر انہوں نے وضاحت کی کہ کٹا سندھی میں بوری کو کہتے ہیں اور وہ بھینس کے بچے نہیں صبح شام چاولوں کی بوری لاتے ہیں۔

اسی بارے میں