’جاوید ناصر سے جواب طلبی نہیں کی گئی‘

یورپ کی سابقہ ریاست یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے عالمی ٹریبونل کی ترجمان نرِما جیلازچ نے کہا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کے الزام میں حکومت پاکستان یا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر سے کوئی جواب طلبی نہیں کی گئی۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو بی بی سی کی جانب سےبھیجی گئی ایک ای میل کے جواب میں کہی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے ایک قومی اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالےسے دعوی کیا تھا کہ پاکستان نے ہیگ میں واقع عالمی ٹرائبیونل کو بھیجی گئی وضاحت میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جاوید ناصر اپنی یاداشت کھو چکے ہیں اور وہ تفتیش کے قابل نہیں۔

اخبار کے مطابق جاوید ناصر کا نام سربیا کے فوجی کمانڈر راتکو ملازوچ نے اس وقت لیا تھا جب ان کے خلاف ٹرائبیونل میں جنگی جرائم کا مقدمہ چل رہا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے سنہ انیس سو بانوے میں بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کے لیے ٹینک شکن میزائل فراہم کیے تھے۔

بی بی سی نے جب اس سلسلے میں پاکستان کے دفترِخارجہ کے ترجمان سے رابطہ کیا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لیکن ہیگ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم کی تفتیش کرنے والے ٹرائبیونل نے پاکستان سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا تو وہاں جواب داخل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہیگ میں عالمی ٹرائبیونل کی ترجمان نرِما جیلازچ نے ایکسپریس اخبار میں شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ’لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر کے حوالے سے ٹرائبیونل نےکسی فریق سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی گرفتاری وارنٹ جاری ہوا، مزید یہ کہ ٹرائبیونل نے جاوید ناصر کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔‘

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ دوران ٹرائیل نو اکتوبر سنہ دو ہزار نو کو راتکو ملازوچ نے عدالت سے کہا تھا کہ بوسنیا کی جنگ میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر کے ملوث ہونے کے بارے میں پاکستان کو مدعو کیا جائے تاکہ ان کا انٹرویو کیا جاسکے۔ لیکن ان کے مطابق انہوں نے یہ درخواست خود ہی ستائیس جنوری سنہ دو ہزار دس کو واپس لے لی تھی۔

تاہم لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر خود اس بات کا فخریہ انداز میں ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب بوسنیا کے مسلمانوں کا سربیا کی فوج نے گھیراؤ کیا تو اُسے توڑنے کے لیے انہوں نے ایک طیارے کے ذریعے ٹینک شکن میزائل مسلمانوں کو فراہم کیے اور ان میزائلوں کی بدولت ہی سربیا کی فوج پیچھے ہٹی اور گھیراؤ ٹوٹا تھا۔

اس بات کا اقرار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر نے تئیس اکتوبر سنہ دو ہزار دو کو لاہور کی ایک عدالت میں جنگ گروپ کے خلاف دائر ایک درخواست میں تحریری طور پر کیا تھا۔ اس پٹیشن کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب بھی ہے اور اس کی تائید اور تصدیق لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر کے اس مقدمے میں ایک وکیل راجہ جہانزیب نے بھی کی۔

جاوید ناصر نے جنگ گروپ کے خلاف یہ مقدمہ دی نیوز اخبار میں اس خبر شائع کرنے پر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جاوید ناصر جب متروکہ وقف املاک کے سربراہ تعینات ہوئے تو انہوں نے بعض املاک بیچ کر تین ارب روپےحاصل کیے اور ملک سے باہر فرار ہوگئے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر بوزنیا کے مسلمانوں کو ٹینک شکن فراہم کرنے کے بارے میں جب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر سے رابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔ تاہم ان کے چھوٹے صاحبزادے عمر جاوید قذافی نے بتایا کہ وہ اس کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ’سٹیٹ سیکرٹس‘ ہے اور وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

ان کے بقول کچھ عرصہ قبل گھر میں گر جانے کی وجہ سے ان کے پچہتر سالہ والد نے اپنی یاداشت کھو دی تھی لیکن اب ان کی یاداشت قرآنی آیات اور حدیث کی حد تک بحال ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد مارچ سنہ انیس سو بانوے سے مئی انیس سو ترانوے تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے اور امریکہ کے دباؤ پر اس وقت کے نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری نے انہیں قبل از وقت ملازمت سے نکال دیا تھا۔

اسی بارے میں