سندھ: جوہی میں طبی سہولیات کا فقدان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اندرون سندھ کی چلچلاتی دھوپ میں تیس کلومیٹر کا پیدل سفر ایسے حالات میں کرنا کہ جسم پر پھوڑے پھنسیاں ہوں،د ھول اڑاتی ٹوٹی پھوٹی سڑک کے دونوں اطراف دس روز سے کھڑے پانی سے تعفن اٹھ رہا ہوکتنا تکلیف دہ ہوگا؟ اس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کرنے کے لیےکافی ہے لیکن میں نے ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں آٹھ سالہ بچی صائمہ کو اسی حال میں دیکھا۔

اس ننھی سی بچی نے ااتنی تکلیف دہ جسمانی حالت کے باوجود پردے کے لیے چادر لپیٹ رکھی تھی۔

سندھ: تقریباً چوبیس لاکھ متاثرین بیماریوں میں مبتلا

سیلاب کے متعفن پانی سے بیمار ہونے والی یہ بچی اپنی برقع پوش والدہ اور ماموں کے ساتھ صبح سے پیدل چل رہی تھی۔ اس کے ماموں ابراہیم نے بتایا کہ ان کے پاس سکوٹر تو ہے لیکن بارش سے سڑک تباہ کردی ہے اس لیے انہیں پیدل ہی سفر کرنا پڑا۔

یہ بچی کاچھو کی رہائشی ہے،کاچھو اندرون سندھ کا وہ علاقہ ہے جس کے تینوں اطراف کی تیس تیس کلومیٹر کی سڑکیں سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں اور تین سو دیہات اور ڈیڑھ لاکھ نفوس کا دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔

امدادی اداروں نے سڑک نہ ہونے کا بہانہ بنا کر سیلابی پانی میں گھرے ان بدنصیب افراد کو امداد نہیں پہنچائی،سیلابی پانی متعفن ہوا تو اس نے بیماریاں پھیلانا شروع کردیں،لوگ پیدل ہی نکل پڑے۔

جوہی واہی،جوہی درگھ اور جوہی ٹنڈو رحیم خان روڈ پر میں نے سینکڑوں بچوں بوڑھوں مرد خواتین کو پیدل چلتے دیکھا۔ کئی لوگ ننگے پیر اور ننگے سر تھے۔

عجیب بات یہ لگی کہ لوگ تکلیف میں ضرور تھے لیکن کوئی بھی مجھے پریشان نظر نہیں آیا۔اتنے راضی برضا لوگ اتنی بڑی تعداد میں پہلے کبھی نہیں دیکھے۔

صائمہ کے ماموں نے بڑی روانی میں بتایا کہ تیس کلومیٹر کا پیدل سفر وہ کرچکے ہیں اور ابھی پیدل بسوں اور چاند گاڑی کا ایک سو اسی کلومیٹر کا سفر باقی ہے کیونکہ علاج کے لیے انہیں حیدرآباد جانا ہوگا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کاچھو کی ڈیڑھ لاکھ متاثرہ آبادی کو اگران کے دیہات میں طبی سہولت نہیں دی جاسکی تو کم از کم جوہی جیسے شہر میں تو میڈیکل کیمپ لگے ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے۔

جامشورو سے لیکر دادو تک کے راستے میں فری میڈیکل کیمپ کا جو واحد سرکاری بینر کسی مقام پر لگا ملا وہ جوہی شہرکی پولیس چیک پوسٹ نکلی جہاں ایک حوالدار محمد ملوک دوپہر کاآرام یعنی قیلولہ فرما رہے تھے۔

انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب یہ بینر لگا گئے ہیں اور کبھی کبھار چکر بھی لگا لیتے ہیں۔ اس پولیس چیک پوسٹ میں طبی علاج کے نام پر سردرد کی ایک گولی بھی نہیں دکھائی دی البتہ حوالدار صاحب کی وردی ضرور دیوار پر لٹکی تھی۔

پچاس ہزار نفوس پر مشتمل جوہی شہر خود اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہے۔

پچھلے برس کے دریائے سندھ کے سیلاب سے بچنے کے لیے اس قصبے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جو بند باندھا تھا وہ اب ان کے لیے عذاب جاں بن گیا۔بارشوں کا پانی اسی بند کی وجہ سے شہر سے نہیں نکل پایا اور اب تعفن کا سبب بن رہا ہے۔ مقامی شہری وفا برہمانی نے بتایا کہ گذشتہ روز ہی ایک بچہ اس پانی میں ڈوب مرا ہے۔

جوہی کے نواح میں واہی بند کے نزدیک دو درجن کے قریب افراد ایک جنازہ اٹھائے دکھائی دیئے۔یہ نواحی گاؤں رستمانی کی رہائشی بوڑھی عورت کی میت ہےجو چند روز بیمار رہنے کے بعد فوت گئی جنازے کے سوگواروں نے بتایا کہ اس عورت کو مرنے سے پہلے کوئی طبی سہولت نہیں ملی۔

یہ لوگ تین کلومیٹر جنازہ اٹھا کر لائے تھے اور مزید دو کلومیٹر دور جوہی شہر کے قبرستان لے جارہے تھے۔

دادو کے ہمسایہ ضلع نوشہرو فیروز کی بھی کوئی اچھی حالت نہیں ہے اس ضلع کے شہر مورو کی سڑکوں اور گلیوں میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے،سکول ہسپتال اورلوگوں کے گھر پانی میں ڈوبے ہیں ،پانی میں تعفن پیدا ہوچکا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد بیمار ہوکر ہسپتالوں میں پہنچ رہی ہے۔

اسی بارے میں