مریضوں کے لیے ’گدھا گاڑی سروس‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سول ہپستال انتظامیہ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فارمولے کے تحت یہ گدھا گاڑی سروس شروع کی ہے

میرپور خاص کی سٹیشن روڈ سے ایک ایمبولنس تیزی سے ہوٹر بجاتی ہوئی سِول ہپستال کے باہر پہنچتی ہے تو وہاں مرکزی دروازے سے ہسپتال کی عمارت تک مریض کو منتقل کرنے کے لیے کوئی سٹریچر موجود نہیں بلکہ سیلابی پانی میں ڈوبے اس ہسپتال میں اس مقصد کے لیے گدھا گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔

یہ ہسپتال گزشتہ ایک ہفتے سے زیرِ آب ہے اور انتظامیہ نے جہاں ایک گدھا گاڑی عملے کے لیے مختص کی ہے وہیں دوسری گدھا گاڑی مریضوں اور تیمارداروں کے لیے چلائی جاتی ہے جن سے فی کس دس روپے کرایہ لیا جاتا ہے۔

میرپورخاص سول ہپستال انتظامیہ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فارمولے کے تحت یہ گدھا گاڑی سروس شروع کی ہے مگر سانگھڑ سول ہپستال کے مریض اس سے بھی محروم ہیں۔

ابتدائی دِنوں میں تو ڈاکٹر بھی گدھا گاڑی پر ہپستال جاتے رہے مگر اب وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔ بعض ڈاکٹروں نے باہر ہی بینچ لگا لیے ہیں جہاں وہ مریضوں کو دوائیں لکھ کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹر لیکھراج نے بتایا کہ ہپستال کے اندر تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’اس پانی میں ہیپاٹائٹس کی استعمال شدہ سرنجیں اور دیگر فضلہ بھی موجود ہے، گندگی اس سے الگ ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹر کیسے جاسکتے ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب کے بعد مریضوں نے مجبوری میں پرائیوٹ ہپستالوں کا رخ کیا ہے

میر پور خاص سِول ہپستال میں عام حالات میں روزانہ دو ہزار مریض آتے ہیں لیکن سیلاب کے بعد مریضوں نے مجبوری میں پرائیوٹ ہپستالوں کا رخ کیا ہے، جہاں تین سو سے پانچ سو رپے فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ ادویات الگ سے خریدنی پڑتی ہیں۔

لیکن کچھ مریض ہپستال کی اس حالت میں بھی زیرِ علاج ہیں۔ جان بی بی کا بھتیجا بھی اندر تھا اور وہ ڈاکٹروں کے اندر جانے کے لیے منت سماجت کرتی رہیں۔

’مریض اندر تڑپ رہا ہے، سارے ڈاکٹر یہاں موجود ہیں اسے رات سے الٹیاں آ رہی ہیں۔ اگر مریض مر گیا تو کون ذمہ دار ہو گا۔‘

صحت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ایچ او‘ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اور سیلاب سے سندھ میں سو سے زائد صحت مراکز متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں