سیلاب زدہ علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبۂ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بی بی سی اردو کے متعدد رپورٹر ان متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ یہاں پر ان رپورٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔

(یہ صفحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا)

شہزار ملک ٹنڈو اللہ یار

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ضلع میں چھپن ہزار متاثرین ہیں اور ایگزیکٹیو ٹاؤن آفیسر نے دعوی کیا کہ پینتالیس ہزآر افراد کو مختلف بیماریوں کے علاج کی دوائیاں فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن کسی بھی امدادی کیمپ میں کوئی طبی ٹیم کام کرتی نظر نہیں آتی۔ البتہ ایک کالعدم تنظیم کی گاڑیاں طبی ٹیمیں لیے امدادی کیمپوں میں سرگرم نظر آتی ہیں۔

ریاض سہیل کڑئیو گنور، بدین

قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے حلقۂ انتخاب میں کڑئیو گنور کے علاقے میں اقلیتی برداری سے تعلق رکھنے درجنوں افراد بدھ کو بڑی شاہراہ پر نکل آئے اور دھرنہ دے کر سڑک کو بند کر دیا۔ یہ لوگ بارشوں کے بعد سے اب تک امداد نہ ملنے پر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی سیاسی بااثر شخصیت نہ کہنے ان کو امداد مہیا نہیں کی جا سکتی۔ یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار مرزا اس حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے تھے۔

علی سلمان، جوہی، دادو

میرے ہمسفر ڈرائیور میاں جی خستہ گل بھی سیلاب زدہ علاقے کے ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر بیمار پڑ گئے ہیں۔ لاکھوں متاثرینِ سیلاب میں اب ہم بھی شامل ہو گئے ہیں۔ کل سے نہ تو اب تک سیلاب زدگان کے لیے کوئی حکومتی کیمپ نظر آیا نہ ہی میاں جی کی نبض جانچنے کے لیے کوئی سرکاری ڈاکٹر ملا۔ میاں جی پیٹ درد کے باوجود سندھ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گاڑی بھگائے جا رہے ہیں۔ جوہی، ضلع دادو کے علاقے میں ایک نجی ڈاکٹر حمید سومرو کا علم ہوا۔ چلیے اب انہیں ہی سے دوا دارو لے لیتے ہیں۔

علی سلمان، جوہی، دادو

ابھی ابھی ایک عورت کا جنازہ دیکھا جو سیلاب سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے علیل ہوئی تھی۔ یہ عورت کاچھو کی رہائشی تھی۔ اس کے بیٹے نے مجھے بتایا کہ کوئی ڈاکٹر یا طبی سہولت نہ ہونےکی وجہ سے وہ اپنی ماں کا علاج نہیں کروا سکا۔ وہ تین کلو میٹر دور چارپائی پر لاش لے کر آئے تھے اور مزید دو کلو میٹر دور جانا تھا۔ کاچھو کا علاقہ تین اطراف کی سٹرکیں بہہ جانے سے تحصیل جوہی سے کٹ چکا ہے اور زمینی راستہ منقطح ہے۔ تقربیاً تین سو گاؤں کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ راستے نہ ہونے کا بہانہ بنا کر کوئی حکومتی یا غیر سرکاری نمائندہ ان تک نہیں پہنچا۔ لوگ تیس سے چالیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چل کر خوراک اور علاج کے لیے جوہی پہنچ رہے ہیں۔ جوہی میں واحد سرکاری میڈیکل کیمپ نظر آیا وہ دراصل ایک پولیس چوکی تھی جس میں ایک حوالدار اور ایک کانسٹیبل سوئے ہوئے تھے۔ حوالدار نے اٹھ کر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب بینر لگا کر گئے ہیں اور کبھی کبھی چکر بھی لگا لیتے ہیں۔

احمد رضا، بے نظیرآباد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی سیلاب زدہ علاقوں میں تاحال کوئی طبی امداد نہیں پہنچی ہے۔

ہم ہلالِ احمر کی طبی امدادی ٹیم کے ہمراہ بے نظیرآباد کے تعلقہ دوڑ میں گوٹھ منصور علی پہنچے۔ یہاں پہنچ کر طبی ٹیم نے علاقے کے مردوں اور عورتوں کو الگ الگ جمع کیا۔ طبی ارکان نے ان لوگوں کو صفائی اور صحت سے متعلق لیکچر دیا جس کا سندھی زبان میں ترجمہ بھی کیا جاتا رہا۔ میں نے ایک مقامی خاتون سے پوچھا کہ کیا انہیں لیکچر کی سمجھ آئی تو اس نے جواب دیا کہ’ ہاں سب سمجھ آئی ہے، یہ سب تو ہمیں کرنا چاہئیے۔‘

اسی دوران طبی ٹیم کے ساتھ آئی ایمولینس کے دونوں جانب کے دروازے کھول کر اسے ڈسپنری کی شکل دے دی گئی جبکہ ایک مکان کے صحن میں میز لگا کر ڈاکٹرز نے مریضوں کا معائنہ کرنا شروع کر دیا۔ اب تک پچاس سے زائد مریضوں کو معائنے کے بعد دوائیں دی جا چکی ہیں۔ ڈاکٹر سہیل کے مطابق مریضوں کو ملیریا، الٹی، دست، بخار اور جِلدی امراض کی شکایت ہے اور ان سب کی وجہ آلودہ پانی ہے۔ میں اب اس طبی ٹیم کو الواداع کہہ کر واپس نوابشاہ کی جانب جا رہا ہوں۔

ریاض سہیل، حیدرآباد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب کے بعد بیماریوں کا شکار افراد سول ہسپتال میرپور خاص پہنچ رہے ہیں لیکن وہاں بھی پانی کھڑا ہے۔

گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے بعد معاشرے کا ہر طبقہ سرگرم نظر آیا تھا، فنکار، تاجر، شہری اتحاد، سیاسی جماعتیں تمام ہی نے کیمپ لگائے یا متاثرین کو خوراک فراہم کی تھی، مگر اس بار ایسا بہت کم نظر آتا ہے۔

میں اس وقت حیدرآباد میں موجود ہوں جہاں حیدر چوک کے آس پاس کچھ کیمپ نظر آتے ہیں۔ میرپورخاص میں جماعتہ الدعوۃ نے کیمپ لگایا ہے لیکن سانگھڑ، ٹنڈوالہ یار یا دیگر کسی علاقے میں کیمپ نظر نہیں آتے۔

علی سلمان، دادو

میں اس وقت ضلع دادو کے شہر جوہی سے گذر رہا ہوں۔ پچاس ہزار نفوس کا یہ شہر حالیہ بارشوں سے بڑی حد تک تہس نہس ہو چکا ہے۔ گذشتہ برس مقامی لوگوں نے سیلاب سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت یہاں ایک بند باندھا تھا جو اب ان کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ حالیہ بارشوں کا پانی اسی جگہ شہر کے اندر کی طرف کھڑا ہو گیا ہے جس میں دس روز کے بعد اب تعفّن پُھوٹ پڑا ہے اور لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ علاقے کے رہائشی وفا برہمانی نے بتایا ہے کہ اسی پانی میں گذشتہ روز ایک پانچ سالہ بچہ سہیل ڈوب کر ہلاک ہو گیا ہے۔

احمد رضا، بے نظیرآباد

میں انجمنِ ہلال احمر کی ایک موبائل طبی ٹیم کے ساتھ نواب شاہ کے نواحی علاقوں کی جانب سفر کر رہا ہوں۔ ٹیم کے نگران ڈاکٹر حارث نے بتایا کہ کوئی بھی غیر سرکاری تنظیم وہاں طبی امداد کے لیے نہیں پہنچی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر بوجھ بہت ہے اور انہیں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مدد چاہئیے۔ انہوں نے بتایا کے جب وہ کسی بھی جگہ طبی مدد کے لیے جاتے ہیں تو راستے میں کئی مقامات پر لوگ انہیں روک لیتے ہیں تاکہ وہ پہلے اُن کے مریضوں کا معائنہ اور علاج کریں۔ کئی لوگ تو ان کی گاڑی سے سامنے لیٹ جاتے ہیں اور ان کے مریض دیکھے بنا آگے نہیں جانے دیتے۔

ڈاکٹر حارث کے مطابق نواب شاہ اور اس کے گرد و نواح کے دیہاتوں میں متاثرینِ سیلاب میں طبی مسائل کا شکار افراد میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ عورتیں خون کی کمی جبکہ بچے غذاییت کی کمی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر حارث نے بتایا کہ وہ جہاں جاتے ہیں انہیں دس سے پندرہ ملیریا کے کیسز ملتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لوگوں کو جو مچھر دانیاں دی جاتی ہیں وہ انہیں اپنے مال مویشیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ بقول ان کے یہ اس وقت ان کا واحد ذریعۂ معاش ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ان کی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔

شہزاد ملک، ٹنڈو الہ یار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگوں نے جانوروں کو دُھوپ سے بچانے کے لیے انہیں خیموں میں رکھا ہوا ہے۔

ٹنڈو الہ یار کے تین متاثرہ تحصیلوں میں سب سے زیادہ متاثر تحصیل چمبڑ ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہاں تیس ہزار لوگ مثاتر ہیں۔ ضلعی حکومت نے متاثرین کے لیے کیمپ تو لگا رکھے ہیں مگر وہ ناکافی ہیں۔ متاثرین کو خوراک کی کمی سامنا ہے۔ تاحال کوئی بھی غیر سرکاری تنظیم اس علاقے میں نہیں پہنچی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ طبی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ متاثرین کے مطابق بیمار افراد کو پیٹ درد کی جوگولیاں دی جا رہی ہیں ان سے انہیں خارش کی شکایت ہو گئی ہے۔ یہاں مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مال مویشی ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے متاثرینِ سیلاب خود تو کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں جبکہ چھوٹے مویشیوں کو خیموں میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے بقول تیز دھوپ سے جانور بیمار ہو سکتے ہیں۔

احمد رضا، بے نظیرآباد

نوابشاہ سکرنڈ روڈ پر متاثرینِ سیلاب کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج پولیس کی یقین دہانی کے بعد بدھ کی صبح ڈیڑھ بجے کے قریب ختم کردیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں امدادی اشیاء کی رسد کا بندوبست کیا جارہا ہے جس میں غذائی اشیاء اور صاف پانی بھی شامل ہے۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے اور شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی۔

ریاض سہیل، میرپور خاص

متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لیے امریکی ترقیاتی ادارہ یو ایس ایڈ بھی سرگرم ہوگیا ہے۔ امریکی قونصل جنرل جیسن کائٹ اور یوایس ایڈ کے ڈائریکٹر اینڈریو سیسن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپیل پر یہ معاونت کی جارہی ہے، جس کے تحت پچاس ہزار خاندانوں کو شیلٹر، پینے کا صاف پانی اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے ذریعے بدین، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، تھر پارکر اور عمرکوٹ میں یہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اسی بارے میں