امریکہ حقانی گروپ کے خلاف ثبوت دے: رحمان ملک

Image caption دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں: رحمان ملک

پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کی قبائلی علاقوں میں موجودگی سے متعلق ثبوت فراہم کرے تاکہ دونوں ممالک مل کر اس ’مشترکہ دشمن’ کا خاتمہ کرسکیں۔

یہ بات وزیر داخلہ سینٹر رحمان ملک نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔ امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دیتے ہوئے اسے شدت پسند گروہوں خصوصاً حقانی گروپ کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان نہیں چاہیے گی کہ ایسا ہو۔

’لیکن میرے خیال میں پاکستانی عوام بھی یہ نہیں چاہیں گے۔ ہم یہ جنگ ایک طویل عرصے سے لڑ رہے ہیں جس میں ہم نے پینتیس ہزار جانوں کی قربانی بھی دی ہے اور اقتصادی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ اگر یہ سب کرنے کے باوجود ہمیں بدلے میں کچھ نہیں ملتا تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔‘

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ جو وہ مانگ رہے ہیں وہ امداد نہیں بلکہ صرف یہ اعتراف کہ وہ بھی اس جنگ سے متاثر ہیں۔ ’ہمیں محض اخلاقی مدد چاہیے۔ ہماری جنگ اور عوامی خواہشات کو مدنظر رکھ کر انہیں یہ پابندی عائد نہیں کرنی چاہیے۔‘

انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی ہے لیکن اسے ان کے بقول مل بیٹھ کر ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شدت پسند شمالی وزیرستان سے نکل کر کابل تک پہنچ جاتا ہے تو کوئی کمی سرحد کے اس پار بھی ہے اسے بھی دور کیا جانا چاہیے۔ ’سرحدی علاقوں میں دہشت گرد ہیں۔ میں اس سے انکار نہیں کرتا لیکن ہماری صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہمارے طالبان آج تک چھپے ہوئے ہیں ہم حکیم اللہ کو نہیں ڈھونڈ سکے آج تک۔‘

حقانی نیٹ ورک سے متعلق امریکی الزامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات پہلے دن سے عائد کیے جا رہے ہیں۔ ’ہم تو آج بھی مختلف علاقوں میں کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ خیبر ایجنسی اور درہ آدم خیل ہی آپ دیکھ لیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر انہوں نے سرحد کے آرپار آمد ورفت کو باقاعدہ بنانے کے لیے بائومیٹرک نظام متارف کروانے کی کوشش کی تھی لیکن اس سرحد کو روزانہ چالیس سے پچاس ہزار افراد پار کرتے ہیں تو ان کے لیے انتہائی مشکل ہے اس پر نظر رکھنا کہ ان میں سے کون طالب ہے اور کون نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ہیں محض اتنا کہا ہے کہ انہیں یقین ہے وہ شمالی وزیرستان میں ہیں۔ ’ہمیں مل کر ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا تو پھر ہی کامیابی مل سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان میں کارروائی کے خلاف نہیں لیکن وہ اس طرح کی کارروائیاں پہلے بھی کرچکے ہیں جن سے متاثرہ لوگ ابھی بھی بےگھر ہیں۔ ’اگر تازہ کارروائی کرتے ہیں تو مزید آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگی۔‘

ایبٹ آباد طرز کی حقانی نیٹ کے خلاف امریکی کارروائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئے گی۔ ’میری خواہش ہوگی کہ وہ ایسا نہ کریں۔ انہیں ہماری خودمختاری اور عوامی جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں