روسی سفیروں کی قیدی سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں موت کی سزا پانے والے روسی شہری کے والد نے پاکستان کی ایک جیل میں سفارتی رسائی کی سہولت ملنے کے بعد روسی سفارت کاروں کی مذکورہ قیدی سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان میں روس کے سفارت خانے کے پریس اتاشی ایوگنی الیسیف نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مبینہ روسی شہری اخلاص اخلاق احمد تک سفارتی قوائد کے مطابق رسائی یا کونسلر ایکسس کی تصدیق کی ہے۔

لیکن روسی سفارت کاروں کی اپنے مبینہ شہری سے ملاقات ہوئی یا نہیں اس بارے میں روسی اہلکار نے کوئی بھی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

البتہ بی بی سی کے علم میں آنے والی دستاویزات کے مطابق 19 ستمبر کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے روسی سفارتخانے کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے نمائندوں کو اخلاص احمد سے 20 ستمبر کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔

مبینہ روسی شہری کے کشمیری والد ڈاکٹر اخلاق احمد نے بی بی سی سے کو بتایا کہ منگل کو اسلام آباد میں مقیم دو روسی سفارت کاروں نے پنجاب کے شہر فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں قید ان کے بیٹے سے ملاقات کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر وہ بھی جیل میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ ستمبر دو ہزار پانچ میں پاکستان میں روسی سفارت خانے نے اخلاص احمد تک سفارتی قوائد کے مطابق رسائی یا ’ کونسلر ایکسس‘ کے لیے حکومت پاکستان سے رجوع کیا تھا تاکہ یہ تصدیق کی جاسکے کہ آیا وہ روسی شہری اخلاص احمد ہی ہیں یا ان کا پاسپورٹ کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔

لیکن اس وقت حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں مقیم روسی سفارت کاروں کو سفارتی قوائد کے مطابق رسائی دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ وہ روسی شہری نہیں بلکہ پاکستانی شہری ہیں۔

لیکن اخلاص اخلاق کے پاس روسی پاسپورٹ ہے اور ان کے والدین اور بعض روسی حکام کا بھی یہ کہنا ہے کہ اخلاص اخلاق احمد روسی شہری ہیں اور حکومت پاکستان نے بھی کبھی بھی اس کی واضح تردید نہیں کی۔

پاکستان میں روس کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چھ سال بعد حکومت پاکستان کی طرف سے اخلاص اخلاق تک کونسلر ایکسس دیا جاناایک اہم پیش رفت ہے۔

ڈاکٹر اخلاق احمد نے ستر کی دہائی میں سابق سوویت یونین میں میڈیکل کالج میں تعلیم کے دوران اپنی ہم جماعت روسی شہری سویتلانا سے شادی کی تھی بعد ازاں ان میں علحیٰدگی ہوگئی تاہم تب تک ان کے دو بچے ہو چکے تھے جن کے نام اخلاص اخلاق اور عبدالرحمان ہیں۔

سولہ مارچ دو ہزار ایک کو اخلاص اپنے والد سے ملنے کے لیے دوبارہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے اور پچیس دسمبر سن دو ہزار تین میں پاکستان کے صدر جنرل پروز مشرف پر ہونے والے حملے کی فوری بعد اخلاص احمد اور کئی دوسروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اخلاص اخلاق ان پانچ لوگوں میں شامل ہیں جن کو سن دو ہزار پانچ میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی۔