’امداد سیاسی وابستگیوں سے مشروط‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضلع بدین میں سیلاب متاثرین کی تعداد اٹھارہ لاکھ کے قریب ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں حالیہ بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد یہ شکایت کرتے عام نظر آتے ہیں کہ امداد کو وہاں سے منتخب ہونے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے سیاسی وابستگیوں سے مشروط کر رکھا ہے۔

بات یہی پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ متاثرہ علاقے میں یہ شکایت بھی عام ہے کہ جن وفاقی یا صوبائی وزراء کے علاقے کے دوسرے رکن قومی یا صوبائی اسمبلی سے اختلافات ہیں تو اس کی سزا بھی اُس علاقے کے عوام کو مل رہی ہے۔

عالمی اداروں اور دیگر ممالک کی جانب سے سب سے زیادہ امدادی سامان ضلع بدین میں بھیجا جا رہا ہے کیونکہ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثرہ لوگوں کا تعلق بھی اسی ضلعے سے ہے جن کی تعداد اٹھارہ لاکھ ہے۔

قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اگرچہ اس امدادی سامان کی تقسیم کے معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں لیکن مبینہ طور پر تمام اختیارات اُن کے بیٹے حسنین مرزا کے پاس ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس کے پاس اُن کی یا اُن کے قریبی افراد کی دستخط شدہ پرچی ہوگی تو ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار افراد خوراک اُسی کو ہی دیں گے۔

بدین کے رہائشی عبدالستار چانڈیو کے بقول سندھ اسمبلی کے رکن ڈاکٹر سکندر اس معاملے میں فرنٹ مین کی حثیت رکھتے ہیں۔’وہ امداد کی تقسیم کے لیے نہ صرف احکامات جاری کرتے ہیں بلکہ اُنہیں اس کام کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور دیگر ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے بریفنگ کا انتظام کریں۔‘

ان حکومتی اور دیگر شخصیات کو ایلمنٹری کالج میں لگائے گئے امدادی کیمپ کا دورہ کروایا جاتا ہے جہاں پر سیلاب کا پانی اُتر چکا ہے اور اُس کے قریبی علاقوں میں بھی پانی نہیں رہا۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس امدادی کیمپ میں بھی اُن افراد کو رکھا گیا ہے جو ڈاکٹر سکندر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

ضلعی انتظامیہ بھی خوش ہے کہ اُنہیں سکیورٹی کے لیے زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑتی ہے۔دوسرا کبھی ان حکومتی شخصیات نے اُن علاقوں کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے جہاں پر اب بھی چھ سے آٹھ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ ان میں تلہار اور ماتلی کی تحصلیں نمایاں ہیں۔

رکن قومی اسمبلی غلام علی نظامانی بھی بدین سے ہی منتخب ہوئے ہیں لیکن علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد صرف ایک مرتبہ وہ اپنے گاؤں میں آئے تھے جب اُن کی والدہ وفات پاگئی تھیں۔

مشکل کی اس گھڑی میں منتخب رکن اسمبلی کی عدم موجودگی کا لوگوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار اس طرح کیا کہ اُنہوں نے غلام علی نظامانی کا علامتی جنازہ نکالا۔ غلام علی نظامانی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اُن کے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور اُن کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ اختلافات ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن کے حلقے میں آنے والی دو تحصیلوں تلہار اور ماتلی کے متاثرہ افراد کو امدادی سامان مساوی طور پر نہیں مل رہا۔

بدین کی تحصیل ٹنڈو باگو جہاں سے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، تاہم اُن کے مستعفی ہونے کے بعد اس تحصیل کے متاثرہ افراد کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

ایک اور متاثرہ شخص قادر سومرو کا کہنا ہے کہ امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے بھی پرچی چلتی ہے جس کے پاس نہ ہو تو وہ اگر امداد لینے کے لیے جائے تو اُس پر پولیس کی لاٹھی چلتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پہلے ضلعی انتظامیہ کے دفتر کے باہر متاثرین کو امداد ملتی تھی اب گوداموں میں رکھے ہوئے راشن کے ٹرک صرف وہی افراد لیکر جا سکتے ہیں جن کے پاس مرزا خاندان کے فرد کی پرچی ہوتی تھی۔

اس معاملے کے بارے میں جب ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر سے بات کی تو وہ کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر کہا کہ وہ اس صورت حال کو دیکھ کر روزانہ جیتے اور روزانہ مرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین کے ساتھ ایسا ناروا سلوک دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انھوں نے خود ہی اپنے جنازے کو کندھا دیا ہے۔

بدین شہر میں اس وقت دو ضلعی رابطہ افسر کام کر رہے ہیں۔ پہلے والے کو سیاسی قیادت کے احکامات نہ ماننے پر غیر موثر کیا گیا ہے اور اُن کی جگہ اب ایک صوبائی سیکریٹری لیول کے ایک افسر کو ڈی سی او کا عارضی چارج دیا گیا ہے۔

سیاسی مداخلت کی اسی قسم کی صورت حال ٹنڈو محمد خان میں بھی ہے جہاں پر متاثرین کے مطابق وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی سید نوید قمر کے کرتا دھرتا افراد اپنے تئیں لوگوں میں امداد تقسیم کر رہے ہیں اور یہاں پر بھی ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی سیلاب انتحابات کے دنوں میں آتا تو یہی سیاست دان جو اب نظر نہیں آتے اُن دنوں میں کشتیاں لیکر بھی متاثرین کے گھروں تک امداد پہنچانے سے بھی نہ کتراتے۔

اسی بارے میں