سوات: سرچ آپریشن، تین شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے خود کش جیکٹ اور دیگر اسلحہ برآمد کیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات کے علاقے مینگورہ میں حکام کے مطابق ایک سرچ آپریشن کے دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آور سمیت تین شدت پسند ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان کرنل عارف نے مقامی صحافی انور شاہ کو بتایا کہ مینگورہ کے علاقے پٹھانے اور ملوک آباد میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران جب ایک شدت پسند کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

فوجی اہلکار کے مطابق جمعرات کی صبح اس واقعے میں خودکش حملہ آور سمیت دو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں ایک تیسرا شدت پسند بھی مارا گیا۔

خیال رہے کہ علاقے میں یہ جھڑپ ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب ایک دن پہلے بدھ کی صبح خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ سوات کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

کرنل عارف کے مطابق اس کارروائی کے دوران دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں جب کہ اس وقت بھی شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

کرنل عارف نے بتایا کہ مینگورہ شہر اور سیدو شریف میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو دوپہر بارہ بچے سے پہلے ختم نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا مینگورہ شہر میں تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا اور اس دوران شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد یہ جھڑپ شروع ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے خود کش جیکٹ اور دیگر اسلحہ برآمد کیا ہے۔

واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی کی صورتحال ایک بار پھر خراب ہونا شروع ہو گئی ہے اور چند دن پہلے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے تھے۔

اسی بارے میں