سیلاب زدہ علاقوں کا آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبۂ سندھ میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ بی بی سی اردو کے رپورٹرز ان متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ یہاں پر ان رپورٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔

(یہ صفحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا)

شہزاد ملک، سانگھڑ

ابھی وزیر اطلاعات کے ساتھ سانگھڑ سے میر پور خاص جانے کے لیے ہیلی کاپٹر میں سوار بھی نہیں ہوئے تھے کہ اطلاع ملی کہ شہداد پور روڈ پر متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان کے تین بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے گئے ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی امداد سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹے جاتے رہے ہیں۔ پولیس کے بقول گُزشتہ تین روز کے دوران امدادی سامان کے نو ٹرک لوٹ لیے گئے جن میں سے کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے اور کچھ حکومت کی طرف سے متاثرین کی مالی امداد کے لیے بھیجے گئے تھے۔

ضلعی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں لوٹنے والوں میں کوئی پیشہ ور ڈاکو نہیں بلکہ سیلاب سے متاثرہ افراد ہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ ان واقعات کی رپورٹ درج کرلی گئی ہے لیکن اس میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے سانگھڑ کی حدود میں داخل ہونے والے امدای ٹرکوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان واقعات کے بعد ٹرانپسورٹرز کی ایک خاصی تعداد نے امدادی سامان لیکر جانے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

شہزاد ملک

بدین ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار اور ٹھٹہ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر کے واپس کراچی آرہا تھا کہ معلوم ہوا کہ وزیر اعظم یوسف رصا گیلانی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں لہذا پھر رخت سفر باندھا اور وزیراعظم کے ساتھ جانے کے لیے کراچی ائرپورٹ پہنچا۔

وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وزیراعظم نہیں بلکہ وزیر اطلاعات غیر ملکی میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کو لیکر جار ہی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے دورے کے دوران متاثرین سیلاب میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا اور اس میں خاص بات یہ تھی کہ اس مرتبہ جن متاثرین میں امداد تقسیم کی گئی اُن میں زیادہ تعداد میں ہندو تھے۔

اعجاز مہر

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی تقسیم بلا تفریق ہونی چاہئیے اور کسی قسم کا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہوگا۔ صدر نے یہ بات اُن اطلاعات کے بعد کہی ہے جن کے مطابق ہندو دلِتوں کو اچُھوت قرار دے کر کیمپوں میں داخلہ اور امداد نہیں دی جارہی۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے اس بابت رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ صدر زرداری نے تمام متاثرینِ سیلاب کو فوری امداد مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

احمد رضا، میر پور خاص

میر پور خاص سے ڈگری کی جانب جانے والی شاہراہ پر ہندو برادری کے سیلاب متاثرین نے بتایا کہ انتظامیہ نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے اور گزشتہ پچیس دنوں سے انہیں کوئی ٹینٹ فراہم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا وہ اپنے بچوں کی بھوک ختم کرنے کے لیے انہیں قہوہ پلا دتیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بھوک وقتی طور کر کم ہو جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہاں پر کوئی بھی سبزی سو روپے کلو سے کم قیمت پر نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

علی سلمان، جعفر آباد، بلوچستان

بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے پاس میں نے ایسا ہوائی پنکھا دیکھا ہے جسے چلانے کے لیے کسی بجلی یا گیس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ پنکھا گدھا چلاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ سے پریشان افراد کو کوئی نیا آئیڈیا مل جائے۔

احمد رضا، میر پور خاص

اس وقت حیدر آباد سے میر پور خاص کا سفر کر رہا ہوں۔ راستے میں تباہی کے وہی مناظر دیکھے جو اس سے پہلے خیر پور، نوشہرو فیروز اور نواب شاہ میں دیکھ کر آیا ہوں۔

ہائی وے کے دونوں جانب متاثرین خیموں اور گھاس پھوس سے بنی جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہاں کئی مقامات پر اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی جانب سے دیے گئے خیمے نظر آئے جو خیر پور، نوشہرو فیروز اور نواب شاہ میں کہیں نظر نہیں آئے۔

علی سلمان، جعفر آباد، بلوچستان

ضلع جعفر آباد کے مرکزی شہر ڈیرہ الہ یار کے قصبے دیشاؤ کی سیم کنال روڈ پر کئی گھرانےگزشتہ تین ہفتوں سے بیٹھے ہیں۔ ان میں ارد گرد کے پانچ دیہات کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ان افراد کے پاس گذشتہ برس سیلاب کے پھٹے پرانے خیمے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں ایسے گھرانے بھی ہیں جو سیلاب میں گھرے اپنے اپنے دیہات میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور زمین پر سوتے ہیں۔ حالیہ سیلاب کے بعد تاحال کسی سرکاری یا غیرسرکاری امدادی ادارے نے ان کی مدد نہیں کی۔

احمد رضا، میر پور خاص

میر پور خاص کے قریب ایک نوجوان گلزار سے بات ہوئی جو گندے پانی میں کھڑا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ پانی میں موجود گھاس کاٹ رہا ہے اور اس گیلی گھاس کو سکھانے کے بعد وہ اسے اپنے جانوروں کو کھانے کے لیے دے گا۔ اس نے بتایا کہ وہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا ہے تاکہ اس کے جانور بھوک سے مر نہ جائیں۔

علی سلمان، جعفر آباد، بلوچستان

نصیر آباد بلوچستان کا انتہائی شورش زدہ علاقہ ہے۔ مقامی پولیس نے ہمیں سکواڈ فراہم کرنے کی پیش کش کی لیکن میرے ساتھی اور مقامی صحافی سارنگ مستوئی نے یہ پیش کش ٹھکرا دی۔ پیش کش ٹھکرانے کے بارے میں انہوں نے مجھ سے پوچھنے یا بتانے کا تکلف گوارا نہیں کیا بعد میں اس کا تذکرہ کیا۔ وہ اکیلے ہی پستول لے کر میرے ساتھ پھر رہے ہیں بہرحال مہمان بے زبان ہوتا ہے۔

ریاض سہیل، کراچی

سندھ کے صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں سیلاب متاثرین کی تعداد اکیاسی لاکھ بتائی ہے، جن میں اٹھائیس لاکھ خواتین ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بارشوں اور اس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو انہتر ہوگئی ہے، جن میں نوے خواتین اور نواسی بچے شامل ہیں۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سیلاب سے متاثر علاقوں کا فضائی دورہ کیا ہے، اس سلسلے میں وہ تھر کے علاقے کلوئی پہنچے ہیں۔

احمد رضا، حیدرآباد

صوبہ سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں لگ بھگ 70 ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں جن کی اکثریت خیموں یا دوسرے شیلٹر سے محروم ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق 21 ہزار متاثرین کو مختلف کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے اور باقی لوگ نہروں کے کناروں، سڑکوں اور بلند مقامات پر مقیم ہیں۔

اسی بارے میں