امریکی الزامات، اگلا قدم کیا ہو گا؟

پاکستان میں پچھلے دو دنوں سے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کی طرف سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر لگائے جانے والے سنگین نوعیت کے الزامات پر مختلف زاویوں سے تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس بات کا احاطہ کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان الزامات کے بعد امریکہ کا آئندہ قدم کیا ہوسکتا ہے؟

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس ٹی وی پر ٹاک شوز کے میزبانوں کے تجزیوں کو دیکھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ بھی پاکستان پر حقانی نیٹ ورک سے تعلق توڑنے یا اس کے خلاف کارروائی کےلیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ اور دیگر طاقتیں پہلے بھی دبے الفاظ میں ایسے الزامات لگاتی رہی ہیں لیکن یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ واشنگٹن نے اتنا کھل کر آئی ایس آئی پر’وار‘ کیا ہے۔

اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسا انہوں نے اس بات کا تہیہ کرلیا ہے کہ اب مزید یہ سب کچھ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انہوں نے جس طرح اس بات کو اپنے سے جوڑا ہے کہ کابل میں امریکی سفارت خانے پر ٹرک بم حملہ حقانی گروپ نے آئی ایس آئی کی معاونت اور مشاورت سے کیا تھا تو اس سے معاملے کی سنگینی کا جائزہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

لیکن پھر بھی یہ اپنی جگہ ایک بڑا سوال ضرور ہے کہ امریکی دھمکی کس حد تک سنجیدہ ہے اور اس کے آنے والے دنوں میں کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملے گزشتہ چھ سات برسوں سے ہو رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جاری بغیر پائلٹ کے امریکی ڈورن طیاروں کی کارروائیاں ماضی کے مقابلے میں اب کافی حد تک بڑھ چکی ہیں۔

حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں ان حملوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور شاید اس مرتبہ اس کا ہدف صرف حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے ہوں۔ اگر قبائلی علاقوں سے باہر بھی ان شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملتی ہے تو وہاں تک بھی ان حملوں کا دائرہ پھیل سکتا ہے۔

پاکستان میں بعض تجزیہ نگاروں اور خفیہ اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے سابق فوجی اہلکاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں سرگرم بعض شدت پسند تنظیموں کو امریکہ کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ مبینہ طور پر ان تنظیموں کے ذریعے سے پاکستان میں حالات خراب کرسکتا ہے جس سے دھماکوں یا حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکومتی اداروں کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شامل بعض دھڑوں پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ان کو مبینہ طور پر امریکہ اور افغان حکومت کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے۔

ان کے مطابق شدت پسندوں کے بعض گروہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ تنظیمیں افغان حکومت یا دیگر طاقتوں کی حمایت کے بغیر وہاں ایک دن بھی رہ سکیں۔

ان کے بقول ’یہ اگر ممکن ہے کہ آپ یہاں سے افغانستان کسی کو بھیج سکتے ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں سے بھی لوگ آسکتے ہیں۔‘

بعض مبصرین کی رائے کے مطابق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کی واحد سپر طاقت امریکہ شمالی وزیرستان میں خفیہ طور پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کرے۔ ایسی کارروائی کہ جس طرح انہوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔

ایک اور اہم بات جسے محسوس کیا جا رہا ہے وہ یہ کہ ابھی تک پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے امریکی الزامات کے حوالے سے کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے انھوں نے چپ سادھ لی ہے۔

اسی بارے میں