’بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی گمبھیر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت مذہبی انتہاء پسندی کے واقعات کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے چیئر پرسن ملک ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی گمبھیر ہو چکی ہے اور سیاسی کارکنوں اور طلبہ کو اٹھانے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے سانحہ مستونگ کے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت مذہبی انتہاء پسندی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

’جبری گمشیدگیوں کا سلسلہ روکا جائے‘

’بات چیت کے لیے فوج کو رویہ بدلنا ہو گا‘

واضع رہے کہ چار روزقبل بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں انتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ترجمان علی شیرحیدری نے ایک نامعلوم مقام سے اخبارات کو ٹیلی فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن نے مزید کہا کہ فرنٹیئر کور اور پولیس کی جانب سے حفاظتی انتظامات صرف بڑی سڑکوں تک محدود ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف نہ ہونے کے باعث ان واقعات کے روک تھام کے لیے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے کیونکہ پینسٹھ ارکان کے ایوان میں ساٹھ سے زیادہ وزراء اور وزیراعلیٰ کے مشیر ہیں جن میں سے زیادہ ترصرف لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث ہیں۔

ملک ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے گذشتہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ان واقعات کے روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہیں ہو رہے ہیں اور بہت سی جماعتیں صرف اخباری بیانات جاری کر کے ان واقعات کی مذمت کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران اب تک دو سو سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بھی دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اغواء برائے تاؤان اور قومی شاہراہوں پر ڈکیتی کی وارداتوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے لاپتہ افراد کے سلسلے میں دو ہزار سات میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس بھی دائر کیا تھا لیکن آج تک کوئی لاپتہ افراد منظرعام پر نہیں آ سکا۔

ظہور شاہوانی نے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹئی اور علماء اکرام پر زور دیا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

’حکومت کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ صوبے میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے، ٹارگٹ کلنگ، مذہبی انتہاء پسندی اور اغواء برائے تاؤان کی وارداتوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔‘

ظہور شاہوانی کے بقول’موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو مذہبی انتہاء پسندی کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی قوانین پر عملدرآمد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عوام کی جانب سے صوبائی حکومت پر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کوئی دباؤ موجود ہے۔‘

اسی بارے میں