سیالکوٹ قتل، سزائیں ہائی کورٹ میں چیلنج

Image caption لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ آئندہ ہفتے ملزموں کی اپیلوں پر سماعت کرے گا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں تشدد سے دو بھائیوں کی ہلاکت کے مقدمہ میں ملوث سابق ضلعی پولیس افیسر وقار چوہان سمیت بائیسں ملزمان نے اپنی سزاؤں کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔

تمام بائیس ملزموں نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی ہیں اور سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے ورثاء نے عدالت کی جانب سے پانچ ملزموں کو بری کرنے کے احکامات کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ آئندہ ہفتے ملزموں کی اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

ملزموں کے وکلاء نے اپیل میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے فیصلے سناتے ہوئے ان کی جانب سے پیش کردہ شواہد کو نظراندار کیا ہے جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

گوجرانوالہ کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بیس ستمبر کو اٹھائیس میں سے بائیس ملزموں کو مختلف سزائیں سنائی تھیں جبکہ پانچ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔ ایک ملزم پولیس اہلکار کا فیصلے آنے سے پہلے ہی عدالتی کارروائی کے دوران انتقال ہوگیا تھا۔

ماہرین قانون کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سات روز کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

جیل کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سات ملزموں کو موت اور چھ کو عمر قید کی سزا دی تھی۔

عدالت نے اسی مقدمہ ملوث سابق ڈی پی او وقار چوہان سمیت نو پولیس اہلکاروں کو تین، تین برس قید اور پچاس پچاس ہزار جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کے اہلِ خانہ نے عدالتی فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور بقول ان کے انہیں انصاف مل گیا۔

عدالت نے مقدمہ پر ایک سال سے زیادہ عرصہ تک سماعت کی اور بیس ستمبر کو وکلاء کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو رات گئےگیارہ بجے کے قریب سنایا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پندرہ اگست کو سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں متعدد افراد نے دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا اور اس کے بعد دونوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انہیں ہلاک کردیا تھا۔

اس واقعہ کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلز نے نشر کیا جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پولیس کے اعلیٰ افسروں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل دی تھی۔

اسی بارے میں