’حقانی گروپ سے رابطہ ہے لیکن تعاون نہیں‘

Image caption اطہر عباس سی این این کو انٹرویو دے رہے تھے

پاکستان کی فوج نے اعلیٰ امریکی حکام کے ان الزامات کی تو سختی سے تردید کی ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے افغانستان میں سرگرم حقانی نیٹ ورک کی اعانت کررہے ہیں لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے اس شدت پسند گروہ کے ساتھ رابطے ہیں۔

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے جمعرات کو کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا فوجی بازو ہے اور الزام عائد کیا تھا کہ یہ شدت پسند گروہ کابل سمیت مختلف علاقوں میں بڑے حملوں میں ملوث ہے۔

اعلیٰ امریکی حکام کے ان الزامات کے بعد کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے، ایک طرف پاکستان کی فوجی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور دوسری طرف اعلیٰ سیاسی قیادت نے باہمی مشاورت شروع کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل میٹیز اس سے قبل بھی پاکستان کے دورے کر چکے ہیں

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نےامریکی ٹی وی چینل سی این این کو انٹرویو دیتے یہ تسلیم کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے ہیں۔

جنرل اطہر عباس نے کہا ’ کوئی بھی انٹیلیجنس ایجنسی کسی حکومت مخالف گروہ یا دہشت گرد تنظیم یا جو بھی کہہ لیجئے ان کے ساتھ مثبت نتائج کی خاطر رابطہ تو رکھنا چاہیے گی۔‘

’اگر کوئی ہمیں یہ الزام دے کہ حقانی گروپ کے ساتھ رابطہ رکھنے والا واحد ملک ہمارا ہی ہے تو ان کے ساتھ اوروں کے بھی رابطے ہیں۔‘

لیکن ترجمان نے کہا کہ ان رابطوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آئی ایس آئی اس تنظیم کی مدد کرتی ہے یا اس کی توثیق کرتی ہے۔

Image caption مائیک مولن اگلے ہفتے ریٹائر ہو رہے ہیں

اس سے قبل جمعے کے روز پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایڈمرل مائیک مولن اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کون سے ملکوں کا حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابط ہے اور صرف پاکستان کو الزام دینا غیر منصفانہ اور غیر سود مند ہے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ہمارے پاس خفیہ معلومات ہیں کہ دوسری حکومتوں کے بھی حقانی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے ہیں لیکن انھوں نے ان حکومتوں کا نام ظاہر نہیں کیا۔

جنرل اطہر عباس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے کہ آئی ایس آئی حقانی نیٹ ورک کی مدد کرتا ہے۔

انھوں نے ایڈمرل مائیک مولن کے اس بیان پر ناگورای کا اظہار کیا کہ پاکستان نے کابل میں امریکی سفارتخانے اور دوسری تنصیبات پر ہونے والے حملے میں مدد کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کا پاکستان میں کوئی ڈھانچہ نہیں ہے اور وہ مشرقی افغانستان کے علاقوں کنڑ اور نورستان سے کارروائی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جلال الدین حقانی افغان جہاد کے زمانے سے افغانستان میں سرگرم ہیں

اتوار کے روز راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں کور کمانڈروں کا اجلاس ہوا جس کے بارے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا تھا کہ اس اجلاس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔

پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے اس اجلاس میں کیا امور زیر بحث آئے، اس کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں۔

پاکستان کی فوجی کمان کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک روز قبل امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹیز جنرل کیانی اور خالد شمیم وائیں سے مل کر گیے تھے۔

امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق‘ جنرل جیمز نے دونوں جنرلوں کے ساتھ پاک امریکی فوجی سرگرمیوں، افغانستان میں اتحادی مہم اور وسیع تر علاقائی امور پر معمول کی بات چیت کی۔‘

بیان کے مطابق جنرل میٹیز نے پاکستان اور افغان عوام کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سلامتی کی کوششوں میں پاکستان کی فوج کے اہم کردار کو سراہا ہے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل جیمیز میٹیز کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ( سی جے ایس سی) جنرل خالد شمیم وائیں نے امریکہ سے آنے والے حالیہ’منفی بیانات‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان کے مطابق جنرل وائیں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اختلافات کو دور کیا جانا چاہیے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے اور پاکستان کی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف سرگرم اس حقانی نیٹ ورک کا کوئی حوالہ نہیں دیا جو پچھلے کئی روز سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان وجہ تنازع بنا ہوا ہے اور جس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ امریکی حکومت اس معاملے کو پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے

ادھر پاکستان کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نےپاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک قومی کانفرنس کے انعقاد کی خاطر اتوار کو ملک کی تقریباً تمام اہم مذہبی اور سیاسی قائدین کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے رابطے کیے ہیں۔

لیکن ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ قومی کانفرنس کب اور کہاں بلائے جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیون پنیٹا اور مائیک مولن نے متنازعہ بیان امریکی کانگرس کے سامنے سماعت کے دوران دیا تھا

اسی بارے میں