مستونگ ہلاکتیں، عدالت کی سماعت

بلوچستان ہائی کورٹ
Image caption بلوچستان ہائی کورٹ نے شعیہ زائرین پر فائرنگ کے واقعے کا از خود نوٹں لیا

بلوچستان ہائی کورٹ نے مستونگ میں کوئٹہ سے ایران جانے والے شیعہ زائرین کی بس پر فائرنگ سے متعلق تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مستونگ میں جائے وقوعہ کا نقشہ اور علاقے میں پولیس اور لیویز ایف سی اور کسٹم کی چیک پوسٹوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں لکپاس کے مقام پر کوئٹہ سے تفتان جانے والی زائرین کی بس پر فائرنگ اور انتیس افراد کی ہلاکت کے واقعہ کی از خود نوٹس لینے کے بعد پیرکے روز سماعت کی۔

سماعت کے دوران صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے عدالت میں سانحہ مستونگ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئیی جس میں بتایا گیا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے سیکریٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

یہ کمیٹی واقعہ کے وقت سکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کرے گی۔ اس کے علاوہ علاقے میں لیویز اور پولیس کی نفری بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایف سی کے تین پلاٹونز بھی گشت کےلیے طلب کرلی گئی ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مستونگ واقعہ کی تحقیقات لیویز سے لے کر اب سی آئی ڈی کے حوالے کردی گئی ہے۔

سماعت کے دوران نائب تحصیلدار مستونگ نے تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مستونگ واقعہ میں ڈرائیور سمیت تین چشم دید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں۔جبکہ واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ پانچ بج کر پندرہ منٹ پر ہوا جبکہ لیویز نے ایف آئی آر چھ بجے درج کی جس میں لاشوں کا ذکر نہیں ہے۔

عدالت نے تفتیش کو ناقص اور نامکمل قرار دیتے ہوئے اس پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کیا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیویز اس کیس کی تفتیش نہیں کرسکتی تو مستونگ کو لیویز کے حوالے کرنے کا جواز کیا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ جس روز مستونگ میں یہ سانحہ پیش آیا اورجب لیویز والوں نے فائرنگ کی آواز سنی تو وہ روکنے کیلئے کیوں نہیں آئے۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فائرنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو تلاش کرلیاجائےگا عدالت نے مستونگ میں جائے وقوعہ کا نقشہ اور علاقے میں لیویز ،پولیس، ایف سی اور کسٹم کی چیک پوسٹوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر کے اس بیان کو بھی کیس کا حصہ بنایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کو سوو موٹو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ بار کی صدر اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کو نوٹس جاری کیے کہ وہ آکر آگاہ کریں کہ ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا اختیار ہے یا نہیں۔

عدالت کی اس سلسلے میں معاونت کے لیے سماعت کے دوران ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان بار کونسل، پاکستان بار کونسل نے مستونگ واقعہ کیخلاف ہائی کورٹ کے از خود نوٹس کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کی۔ عدالت نےاس درخواست کو منظور کرلیا اور کیس کی سماعت چار اکتوبر تک ملتوی کردی ۔

اسی بارے میں