بے اختیار حکمران، لولی لنگڑی حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن بھی ہیں

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایش کی صدر عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ جب اختیارات حکمرانوں کے پاس نہ ہوں تو حکومت لولی لنگڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے بار کے انتخابات سے قبل ہی ججز کی تعیناتی کامطالبہ کیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کو بلوچستان ہائی کورٹ میں وکلاء اور صحافیوں سے بات چیت کرتے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ملک میں اختیارات فوج اور دیگراداروں کے ہیں اور جب اختیارات منتخب حکمرانوں کے پاس نہ ہوں تو حکومت لولی لنگڑی بنتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات سے قبل ہی ججز کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ماضی کی طرح ججز کی تعیناتیاں وکلاء کے انتخاب پراثر انداز نہ ہوں ۔کیونکہ ماضی میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدلیہ انتظامیہ کو تو کٹہرے میں لاسکتی ہے لیکن عدلیہ مانیٹرنگ سیل نہیں بن سکتی ہے۔ اس بات کی ہمیں بہت خوشی ہے کہ ’سوموٹو ایکشن‘ کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے لیکن ہم کسی کی ڈکٹیشن پرنہیں چلتے بلکہ اپنے قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اقدامات اٹھاتے ہیں اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق قانون اورمیرٹ کے پابند ہیں۔

سانحہ مستونگ کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں اور عالمی سطح پر بلوچستان کی بقاء سب سے زیادہ خطرے میں ہے کیونکہ یہاں پر بیرونی اور اندرونی طاقتیں نبردآزما ہیں جو گیم کھیلی جارہی ہے اس کیلئے انہیں اس خطے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں موجودتمام اقوام کو مشکلات درپیش ہیں ٹارگٹ کلنگ ،مسخ شدہ لاشوں کا ملنا اور مذہبی فرقہ واریت جیسے واقعات سے بلوچستان کے حالات خراب کئے جارہے ہیں۔

موجودہ ملکی صورتحال کاذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر نے کہا کہ ہمیں اس طرح کا لائحہ عمل اختیار کرناچاہئے جس طرح ایک مہذہب قوم جنگ سے قبل سو مرتبہ سوچتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بارہ مئی کوکراچی میں پیش آنے والے واقعہ کو وہ نہیں بھولی اور کیس سندھ ہائی کورٹ میں چل رہا ہے جس کی جلد شنوائی کیلئے ہمارے وکلاءکراچی میں کوششیں کر رہے ہیں اورہماری کوشش ہے کہ ملزمان کو جلدا ز جلد سزا ملے۔