’پُرامن افغانستان کا قیام چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp

پاکستانی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ خطے میں دیر پا امن کے قیام کے لیے امریکہ پاکستان اور افغانستان کو ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کے طور پر خطاب میں وزیرِخارجہ حنا ربانی نے افغانستان اور پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں کہا کہ خطے کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر فطری طور پر جذباتیت اور پریشانی بڑھ رہی ہے لیکن ہمیں ان حالات میں بھی اپنے مقاصد کے حصول پر توجہ مرکوز رکھنی ہو گی۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ’ہمیں اس موقع پر ذمہ دار شراکت داروں کے طور پر بھرپور تعاون کے ذریعے کام کرنا ہو گا اور جذبات کی رو میں بہہ کر الزام تراشی اور ایک دوسرے کی نیت پر شک کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں اس فیصلہ کُن مرحلے میں اپنے غیر ملکی شراکت داروں خاص طور پر امریکہ اور افغانستان کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ’ہم افغانستان کو ایک مضبوط اور پر امن ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہاں ہونے والی مصالحت اور مذاکرات کے حامی ہیں۔‘

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آلۂ کار ہے اور گیارہ ستمبر کو کابل میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے پاکستان کی مدد سے کیے گئے تھے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی حکومت کابل میں ہونے والے حلموں کی مذمت کرتے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ’قومی مفاد میں ہے‘ اور اس جنگ میں ’ کامیابی اس خطے اور دنیا میں امن و تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیان کرنا شروع کریں کہ پاکستان کو دہشت گردی کی وجہ سے کس قدر تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑا ہے تو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ’اگلے سال ستمبر تک سنتی رہے گی۔‘

حنا ربانی کھر نے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے دفاع میں کہا ’اس بات سے سب ہی واقف ہیں کہ تورا بورا میں بمباری کے بعد پاکستانی حفیہ ادارے اور سکیورٹی ایجنسیاں ہی تھیں جنھوں نے القاعدہ کے بیشتر اراکین کو پکڑا۔‘

انھوں نے کہا ’حال ہی میں القاعدہ کے اہم رکن یوسف المورتانی کو آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے ایک مشترکہ آپریشن میں پکڑا گیا۔‘

بھارت کے متعلق پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور جموں کشمیر سمیت تمام مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا ’کشمیر کا پرامن حل نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیریوں کی رائے کو مدِ نظر رکھا جائے کیونکہ اسی سے مستقل حل نکلے گا اور یہ کشمیریوں کا بنیادی حق بھی ہے۔‘

اسی بارے میں