آفاق احمد نقص امن کے تحت پھرنظر بند

آفاق احمد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آفاق احمد سات برس بعد بدھ کو رہا کیے جانے والے تھے

مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم حقیقی کے اسیر رہنما سربراہ آفاق احمد کو نقص امن کے قانون کے تحت آج کراچی کی انتظامیہ کے حکم پر مزید ایک ماہ کے لیے نظر بند کردیا گیا۔

تقریباً بیس برس پہلے متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی اختیار کرکے مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم حقیقی بنانے والے آفاق احمد اپنے خلاف درج سیاسی کارکنوں یا ان کے رشتہ داروں کے قتل، اقدام قتل، اغواء، غیر قانونی اسلحہ اور تشدد کے واقعات کے کئی مقدمات کے تحت دو ہزار چار سے جیل میں تھے۔

ایک دن قبل یعنی منگل کو آخری مقدمے میں بھی ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور آج سات برس بعد وہ رہا کیے جانے والے تھے۔

آفاق احمد کے وکیل محمد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام مقدمات میں ضمانت کے بعد ان کی رہائی کے احکامات بدھ کو زر ضمانت جمع کروائے جانے کے بعد جاری کئے گئے تھے۔ مگر آج رہا کیے جانے کی بجائے انہیں نقصِ امن کے قانون یعنی مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈینینس (ایم پی او) کے تحت ایک بار پھر لانڈھی جیل میں نظر بند کردیا گیا۔

انیس سو نوّے کی دہائی تک آفاق احمد الطاف حسین کی قیادت میں قائم مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ ان کے ساتھی عامر خان بھی تنظیم میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔

انیس سو بانوے میں قیادت سے اختلافات کے بعد عامر خان اور آفاق احمد نے تنظیم کا علیحدہ دھڑا تشکیل دیا آفاق احمد چیئرمین اور عامر خان جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کئی برس تک نئی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی قیادت کرتے رہے۔

انیس سو بانوے میں ہی وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے فرقہ وارانہ اور سیاسی تشدد کے شکار کراچی میں آپریشن کلین اپ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی تو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے لندن میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔

اسی دوران ایم کیو ایم حقیقی سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ رہی اور کابینہ میں اس کے وزیر شامل رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رہائی کے بعد عامر خان نے خود دوبارہ متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کردیا

اس سارے عرصے میں الطاف حسین کی متحدہ اور عامر خان و آفاق احمد کی حقیقی کے ہزاروں کارکنان مختلف واقعات میں قتل کیے گئے۔ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتی رہیں۔ انیس سو ستانوے میں الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔

حقیقی نے اپنی سرگرمیاں پنجاب بھی منتقل کیں اور کراچی واپسی پر اس کے اکثر رہنما فوجی علاقوں، گیریژنز یا کینٹونمنٹس میں مقیم رہے۔ سنہ دو ہزار چھ میں بالآخر عامر خان اور آفاق احمد کے درمیان بھی سیاسی اختلاف پیدا ہوا اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی بھی دو دھڑوں میں بٹ گئی۔

آفاق احمد کی قیادت میں قائم دھڑا مہاجر قومی موومنٹ پاکستان اور عامر خان کی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کہا جانے لگا۔ دونوں رہنماؤں کے خلاف درج کئی مقدمات کے تحت دو ہزار تین میں عامر خان اور دو ہزار چار میں آفاق احمد کو گرفتار اور تنظیم کے مرکزی دفتر بیت الحمزہ کو مسمار کردیا گیا۔

اپریل دو ہزار چار میں عامر خان اور آفاق احمد کو ٹرائل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی۔ سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے مئی دو ہزار گیارہ میں ان دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دس دس لاکھ روپے کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا مگر سندھ ہائی کورٹ میں پولیس فائل نہ ہونے کے سبب آفاق احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت اٹھارہ اگست تک ملتوی کردی گئی۔

رہائی کے بعد عامر خان نے اپنی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ حقیقی ختم کرنے اور خود دوبارہ متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کردیا اور اپنے کئی ساتھیوں سمیت الطاف حسین کی ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے۔

اسی بارے میں