ہرنائی: راکٹ حملے میں تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بلوچستان کےعلاقے ہرنائی میں راکٹ فائرکرنے کے ایک حملے میں گیس اور تیل تلاش کرنے والی کمپنی کے دواہلکار اور فرنٹیئرکور کا ایک ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی نےحملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ہرنائی سے دس کلومیٹر شاہرگ کے مقام تیل اور گیس تلاش کرنے والی ماروی کمپنی کے ملازمین پر آج بلوچ مزاحمت کارروں کی جانب سے راکٹ باری اور فائرنگ ہوئی۔جس میں کمپنی کے دو اہلکار اور ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں جن میں ایف سی کے دواہلکار بھی شامل ہیں۔

زخمیوں کو فوری طور پرسول ہسپتال ہرنائی منتقل کردیاگیا جبکہ ہلاک ہونےوالے دو افراد بشارت حسین اورجمیل احمدکی لاشیں پنجاب اور خیبر پختونخوا روانہ کردی گئی ہیں۔جبکہ ہلاک ہونے والے اعجاز احمد کا تعلق بھی پنجاب سے بتایاگیا ہے۔

ہرنائی سے مقامی صحافی عبدالمالک کےمطابق مذکورہ کمپنی میں کام کرنے والے زیادہ ترکا تعلق پنجاب اورخیبر پختونخوا سے ہے اور جب حملہ ہوا اس وقت کوئی مقامی شخص کمپنی کے ساتھ کام نہیں کرا تھا۔

حملے کے بعدسیکورٹی فورسز نے علاقے میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر ہرنائی خدائے نظر بڑیچ نے واقعہ کے بعد فوری طور پرہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ڈاکٹروں کو زخمیوں کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

تاہم کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان نے اس حملے میں ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ ایک نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے کمپنی کے تین کارکنوں کو اغواء کرنے کا بعد دعویٰ کیا ہے۔

میرک بلوچ نے خبردار کیا کہ ملکی اور غیرملکی کمپنیاں علاقے میں گیس اور تیل کی تلاش بندکردیں بصورت دیگر وہ اپنے نقصانات کا خود ذمہ دار ہونگے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ہرنائی اور چمالنگ کے علاقوں میں ملکی اور غیرملکی کمپنیوں پر کئی بار اس طرح کے حملے ہوچکے ہیں۔لیکن حکومت کی جانب سے آج تک ان واقعات میں ملوث اصل ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

اُدھر ایک نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرنے بلوچ ری رپبلیکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے سوئی ڈیرہ بگٹی روڈ پر فرنٹیئرکور کے ایک کانوائے کوخودکار ہھتیاروں سے نشانہ بنانے اور پندرہ اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوی کیاہے۔ بقول سرباز بلوچ کے یہ حملہ ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے جواب میں کیاگیا ہے تاہم کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے اسکی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں