آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 ستمبر 2011 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

کراچی میں ویران سیاسی اکھاڑے

نشتر پارک

پٹیل پارک جسے قیامِ پاکستان کے بعد سردار عبدالرب نشتر کے نام پر نشتر پارک قرار دے دیا گیا اب کھیل کود کا ایک عام سا میدان رہ گیا ہے۔

کوئی سیاست دان کتنا باشعور، دور اندیش اور بہتر مقرر ہے، اس کا اندازہ اس کی تقریروں سے اندازہ لگایا جاتا تھا۔ یہ تقریریں عام طور پر کھلے میدانوں میں ہوتی تھیں جو ماضی میں لوگوں سے بھرے ہوئے نظر آتے تھے۔ ایسے ہی دو میدان نشتر پارک اور ککری گراؤنڈ بھی ہیں جو اب کرکٹ اور فٹبال تک محدود ہوگئے ہیں اور ان جلسہ گاہوں کی جگہ سڑکوں کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔

لیاری کا ککری گراؤنڈ ‘جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں جلسہ کر کے کراچی میں پارٹی کا پہلا دفتر قائم کیا تھا۔ اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نے 1986 میں ’نشتر پارک‘میں جلسہ کرکے مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ڈالی تھی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔

ککری گراؤنڈ

ککری گراؤنڈ میں اب بچے فٹبال کھیلتے ہیں، اس میدان کو پہلی بار سیاسی حیثیت اس وقت حاصل ہوئے جب اسے ایوب خان کے دور میں کراچی پورٹ کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔

ککری گراؤنڈ اور نشتر پارک کو بعض تجزیہ نگار سیاسی اکھاڑے بھی کہتے رہے ہیں، جہاں سیاسی جماعتیں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کرنے کی آزمائش سے گذرتی تھیں۔

کراچی کی تاریخ پر مبنی کتاب ‘کراچی سندھ جی ماری’ کے مصنف گل حسن کلمتی بتاتے ہیں کہ انیس سو گیارہ بارہ تک یہ گراؤنڈ لیاری ندی کی گذر گاہ تھا بعد میں ندی کا رخ تبدیل ہوگیا ہے۔ اس گڑھے کو پر کرکے میدان بنایا گیا کنکروں کی بہتات کی وجہ سے اس کا نام کنکری گراؤنڈ پڑ گیا اور جو بعد میں بگڑ کر ککری گراؤنڈ ہوگیا۔

یہ میدان ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کئی اہم سیاسی رہنماؤں کی جلسہ گاہ ہوا کرتا تھا، مگر آج وہاں بچے کرکٹ اور فٹبال کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ بوڑھے یہاں تاش کھیل کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ حال نشتر پارک کا بھی ہے جو پہلے پٹیل پارک کے نام سے مشہور تھا مگر بعد میں اسے تحریک پاکستان کے رہنما عبدالرب نشتر کے نام سے منسوب کر کے’نشتر پارک‘ بنا دیا گیا۔

پیپلزپارٹی کے ابتدائی ایام کے رکن اُنسٹھ سالہ رحیم بخش آزاد المعروف آزاد ابّا کراچی کی سیاسی تاریخ پر دسترس رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ تحریک آزادی کے رہنما مولانا عبداللہ سندھی، محمد صادق کھڈے والا اور مولانا مودودی جیسے رہنماؤں نے ککری گراؤنڈ میں کئی جلسے کیے۔

خود ان کے الفاظ میں ‘ ککری گراؤنڈ، کھیل کے میدان سے سیاسی اکھاڑہ اس وقت بنا جب 1962 جنرل ایوب خان کے مارشل میں افسر شاہی نے یہ زمین کراچی پورٹ کے حوالے کرنے کی کوشش کی، جس پر لیاری کے باسیوں نے ناراضی کا اظہار کیا، اسی دوران ون یونٹ کے خلاف یہاں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس سے عطااللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری سمیت اہم بلوچ رہنماؤں نے خطاب کیا’۔

رحیم بخش آزاد

رحیم بخش آزاد المعروف آزاد ابّا کراچی کی سیاسی تاریخ پر دسترس رکھتے ہیں۔

رحیم بخش آزاد کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے لیاری میں اپنی جماعت کا دفتر کھولنے سے پہلے یہاں کے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ریلی کا اہتمام کیا، جس نے لیاری کی گلیوں اور سڑکوں پر چکر لگائے، بعد میں یہ سب جلوس ککری گراؤنڈ میں جمع ہوئے جہاں پیپلز پارٹی کا جلسہ اور لیاری پیپلز پارٹی کا سیاسی قلعہ بن گیا۔

بینظیر بھٹو انیس سو چھیاسی میں جب خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس وطن پہنچیں تو انہوں نے بھی سندھ میں پہلا جلسہ ککری گراؤنڈ میں ہی کیا تھا۔ یہی گراؤنڈ تھا جہاں بینظیر بھٹو اور موجودہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی شادی کی تقریب ہوئی تھی۔

مگر آج اس گراؤنڈ میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں جو داخلی دروازے ہی سے شروع ہو جاتے ہیں۔

اب پیپلز پارٹی سمیت کم و بیش تمام جماعتوں نے ان میدانوں کی جگہ شاہراہوں کو جلسہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کا کہنا ہے کہ آج پارٹی میں کوئی ذوالفقار علی بھٹو نہیں ہے جو اتنے وسیع گراؤنڈ کو لوگوں سے بھر سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘اکثر جماعتیں اتنے بڑے گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کے بجائے کسی شاہراہ پر جلسہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں جہاں تھوڑے سے لوگ بھی زیادہ نظر آتے ہیں’۔

تاج حیدر کہتے ہیں کہ اتنے بڑے جلسے سے بہتر ہے کہ لوگوں کو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پیغام دے دیا جائے۔

ایم کیو ایم نے نشتر پارک میں متحدہ قومی موومنٹ بننے کا اعلان کیا اور بعد میں کئی اہم جلسے اسی گراؤنڈ میں منعقد کیے گئے جن کی وجہ سے کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سینکڑوں جلسوں کے باوجود یہ گراؤنڈ ایم کیو ایم کے زیر اثر سمجھا جاتا رہا ہے

ایم کیو ایم اور نشتر پارک

کچھ ایسا ہی حال شہر کی ایک بہت بڑی سیاسی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی اکھاڑے کے طور پر کیے جانے والے نشتر پارک کا ہے جہاں ایم کیوایم کے قیام کے اعلان کیا گیا اور بعد میں کئی اہم جلسے اسی گراؤنڈ میں منعقد کیے گئے۔ کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سینکڑوں جلسوں کے باوجود یہ گراؤنڈ ایم کیو ایم کے زیر اثر سمجھا جاتا رہا ہے۔

شہر کے قدیم ایریا سولجر بازار میں واقع نشتر پارک میں بیٹھے ہوئے پچپن سالہ مستری عبدالغنی کئی جلسوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے کے علاوہ سنی تحریک کا وہ جلسہ بھی دیکھا تھا جس میں بم دھماکے سے تحریک کی مرکزی قیادت ہلاک ہوگئی تھی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ شہر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے نشتر پارک میں سیاسی جلسے نہیں ہو رہے ہیں۔

پچاسی سالہ ریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ عبدالستار نشترپارک کے قریب ہی سولجر بازار میں واقع چاند تارہ بلڈنگ میں رہتے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ جلسے لوگوں میں سیاسی مایوسی کی وجہ سے نہیں ہو رہے۔ بقول ان کے آج کے سیاستدان اچھے نہیں ہیں کیونکہ یہ سیاستدان عوام سے نکلے ہیں اور جب آٹا ہی بہتر نہ ہو تو بسکٹ کیسے اچھے بنیں گے ۔

انیس سو اکہتر کے انتخابات کے دوران جماعت اسلامی نے بھی نشتر پارک میں ایک بڑا اجتماع کیا تھا، اس اجتماع میں شریک جماعت اسلامی کے موجود اسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبدالرشید بیگ بتاتے ہیں کہ اس وقت کراچی میں قومی اسمبلی کی چھ نشستیں تھیں تیس اپریل کو ہر حلقے کے امیدوار کی قیادت میں ریلیاں ایم اے جناح روڈ پر پہنچیں اور وہاں سے نشتر پارک روانہ ہوئیں جہاں جلسہ منعقد کیا گیا۔ جو ایک بہت بڑا اجتماع تھا۔

تاج حیدر

تاج حیدر کا کہنا ہے کہ آج پارٹی میں کوئی ذوالفقار علی بھٹو نہیں ہے جو ککری گراؤنڈ جیسے وسیع گراؤنڈ کو لوگوں سے بھر سکے۔

عبدالرشید بیگ کا کہتے ہیں کہ یہ اجتماع ہی جماعت اسلامی کا دشمن ثابت ہوا اور جماعت کی مقبولیت دیکھ کر دوسری مذہبی جماعتیں میدان میں لائی گئیں اور ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کی جماعت کو پیچھے دھکیلا گیا۔

نشتر پارک کی شناخت اب محرم الحرم کی مجالس اور بارہ ربیع الاول کے جلسہ بن گئی ہے، جب کہ سیاسی جلسوں کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایم اے جناح روڈ کا انتخاب کرلیا ہے۔

عبدالرشید بیگ کا کہنا ہے کہ آج کل جلسوں کا نہیں جلوسوں کا دور ہے اس لیے جلسے نہیں جلوس نکالے جاتے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔