’رہائی کی درخواست پر کوئی پیش رفت نہیں‘

Image caption پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور ان کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر اب سماعت چار اکتوبر کو ہوگی

افغانستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ بگرام جیل سے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے ایک سال پہلے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست پر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی اور یہ معاملہ جوں کا توں موجود ہے۔

یہ درخواست گزشتہ سال اکتوبر میں دائر کی گئی تھی اور اب تک چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سمیت چار ججز اس درخواست پر سماعت کر چکے ہیں۔

پاکستانیوں کی رہائی، وفاق کو حکم

بگرام میں قید پاکستانی کون؟

تنظیم کی وکیل بیرسٹر سارہ بلال نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستانیوں قید کی رہائی کے لیے درخواست پر کئی بار سماعت ہوئی لیکن حکومت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب پیش نہیں کیا۔

بیرسٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ درخواست پر آخری سماعت دو روز قبل ہوئی تاہم حکومتی وکیل کی عدم دستیابی کے باعث درخواست پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

تنظیم کی وکیل کے بقول درخواست کی ایک جج سے دوسرے جج کو منقتلی کی وجہ سے درخواست گزار وکلاء کو دوبارہ سے پیروی کرنا پڑتی ہے۔

بگرام جیل میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست پر پہلی سماعت گزشتہ سال دو اکتوبر کو ہوئی تھی اور اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے ابتدائی کارروائی کے بعد وزارت داخلہ اور دیگر مدعاعلہیان سے جواب طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ درخواست سینیئر جج جسٹس ناصر سعید شیخ کی عدالت میں منتقل کردی گئی۔

تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی وکیل کے بقول جسٹس ناصر سعید شیخ کی عدم دستیابی کے باعث درخواست جسٹس مامون رشید کے روبرو سماعت کے لیے پیش کی گئی تو وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست سے متعلق جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

درخواست گزار وکیل کے مطابق ان کی طرف سے سرکاری وکیل کے مہلت طلب کرنے پر اعتراض کیا گیا اور عدالت کو بتایاگیا کہ یہ درخواست ایک سال سے زیر سماعت ہے جس پر جسٹس ماموں رشید نے سرکاری وکیل کو باور کرایا تھا کہ حکومت اپنا جواب پیش کرے اور مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

تاہم جسٹس مامون رشید کی عدم موجودگی میں یہ درخواست سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمودخان کو بھجوا دی گئی اور ایک بار پھر سے درخواست گزار تنظیم کی وکیل نے از سرنو اپنی درخواست میں اٹھائے گئے نکات کے بارے میں عدالت کو بتایا تاہم وفاقی حکومت کے وکیل کے پیش نہ ہونے کی بنا پر سماعت بغیر کارروائی موخر ہوگئی۔

بیرسٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ دو اکتوبر کو درخوست پر پہلی سماعت کے بعد وزارت داخلہ نے عدالت میں جواب داخل کرتے ہوئے اپنا نام مدعاعلہیان کی فہرست سے خارج کرنے کی استدعا کی اور یہ جواز پیش کیا کہ وزارت داخلہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔وزارت داخلہ کے مطابق یہ معاملے وزارت خارجہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان نامی تنظیم کے مطابق وزارت خارجہ نے عدالت کو صرف اتنا آگاہ کیا ہے کہ سات پاکستانی افغانستان میں بگرام جیل میں قید ہیں اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر کوشیش کی جا رہی ہیں۔

بیرسٹر سارہ بلال کا کہنا ہے کہ حکومت درخواست کی پیروی کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی اور ہر سماعت سرکاری وکیل کی طرف سے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

بگرام جیل سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور ان کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر اب سماعت چار اکتوبر کو ہوگی۔

اسی بارے میں