’شدت پسندوں کو سُدھارنے کا جامع منصوبہ‘

ملک اسحاق تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر راغب کرنے کی پالیسی ایک دہائی سے زیر غور ہے

پاکستان میں متحرک شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی کے بڑھتے ہوئے امریکی مطالبے کے پس منظر میں پاکستان کے قومی سلامتی سے متعلق اداروں نے شدت پسندوں کو غیر مسلح کرنے اور قومی دھارے میں لانے کی مرحلہ وار پالیسی پر عمل شروع کر دیا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والے شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر راغب کرنے کے لیے یہ پالیسی ایک دہائی سے زیر غور ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں اس بارے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

پاکستان میں شدت پسندی کے چالیس سال: ٹائم لائن

کالعدم تنظیمیں:مائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش

پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق بعض افسران کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی مدد سے زیرعمل آنے والی اس ہمہ جہت حکمت عملی پر عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر بعض اہم شدت پسندوں کو ’نیوٹرالائز’ یا جنگجوؤانہ سرگرمیوں سے بظاہر علیحدہ بھی کیا جا چکا ہے۔

سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد شدت پسند رہنماؤں اور تنظیموں سے رابطے بھی قائم کیے جا رہے ہیں اور کالعدم تنظیم ’لشکر جھنگوی’ سے تعلق رکھنے والے بعض اہم رہنماؤں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے جنگجوؤں کو غیر مسلح کر دیا گیا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ لشکرجھنگوی اور اس قبیل کی دیگر تنظیموں کے ساتھ جو ’پنجابی طالبان‘ کے نام سے بھی کام کر رہی تھیں، بات چیت میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

ذرائع مثال کے طور پر ملک اسحاق کا ذکر کرتے ہیں جنہیں اس معاہدے کے بعد کہ وہ شدت پسندی ترک کر دیں گے، حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا۔

ملک اسحاق کو جیل سے رہائی کے بعد پچھلے ہفتے ایک بار پھر تحویل میں لیا گیا ہے لیکن ذرائع کہتے ہیں کہ ان یہ یہ گرفتاری ایک طرح کی حفاظتی تحویل ہے۔ ملک اسحاق جیل سے رہائی کے بعد تین ماہ تک آرام کے بعد جب چند روز قبل اپنے علاقے میں نکلے تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

ملک اسحاق کی رہائی کے لیے سکیورٹی اداروں اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مہینوں بات چیت جاری رہی جس میں پنجاب حکومت نے بنیادی کردار ادا کیا۔

اس بات کی تصدیق کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے سابق رہنما اور ملک اسحاق کے دیرینہ ساتھی اور اہل سنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔

’میں نے پنجاب انتظامیہ کے بعض ذمہ داروں سے کہا کہ عدالتوں نے ملک اسحاق کو رہا کر دیا ہے آپ بھی مہربانی کریں اور اسے جیل سے چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ گارنٹی کیا ہو گی۔ میں نے کہا میری ملاقات کروا دو۔ تین گھنٹے ملک اسحاق سے جیل میں ملاقات کے بعد میں نے آ کر انہیں مطمئن کر دیا اب تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور رہائی کے بعد ملک اسحاق پر امن زندگی گزار رہے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب امیر ہی تائب ہو گیا تو تنظیم بھی نہ رہی:مولانا احمد لدھیانوی

اس سوال پر کہ ملک اسحاق کی تشکیل کردہ تنظیم لشکر جھنگوی کا کیا بنا، تو مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ ’جب امیر ہی تائب ہو گیا تو تنظیم بھی نہ رہی‘۔

ملک اسحاق اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران پنجاب کے وزیراعلٰی شہباز شریف کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت بعض دیگر سینیئر فوجی اور انٹیلی جنس افسران سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحاق جلد ہی باضابطہ اپنی تنظیم کی تحلیل اور مسلح جدوجہد ترک کرنے کا اعلان کر کے پاکستان میں عملی سیاست میں حصہ لیں گے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ ملک اسحاق کے ساتھ معاہدے کو بعض دیگر شدت پسند گروپوں کے ساتھ بھی دہرایا جائے۔ اس سلسلے میں مولانا مسعود اظہر کی جیش محمد اور مولانا فضل الرحمٰن خلیل کی حرکت المجاہدین کے ساتھ بھی رابطے قائم کیے جا رہے ہیں۔

حکومت پنجاب کی مدد سے پاکستانی فوج ان پنجابی طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم پاکستان دشمن جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ پاکستانی اسٹیلشمنٹ کے روابط قائم ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے پنجابی طالبان کو یہ بھی پیشکش کر رکھی ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو پیشہ وارانہ تربیت دے کر ملازمتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں ان جنگجوؤوں کے لیے جنوبی پنجاب میں مختلف تربیتی مراکز کھولے جا رہے ہیں۔

اس نوعیت کے دو مراکز جنوبی پنجاب میں کھولے جا چکے ہیں جن کا انتظام پنجاب حکومت نے کیا ہے۔ ان مراکز کا دورہ کرنے والے ملتان کے صحافی غضنفر عباس کے مطابق یہ تربیتی مراکز ضلع راجن پور میں فتح پور روڈ پر واقع آباد ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر اور بہاول پور میں کے ایل پی روڈ پر واقع مراکز میں دی جا رہی ہے۔

غضنفر عباس نے بتایا کہ ان مراکز کے منتظمین اور یہاں تربیت حاصل کرنے والے سابق جنگجوؤں نے تو باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی تھانے کے ذریعے انہیں اس تربیت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ تین ماہ کی اس تربیت کے دوران شدت پسند تنظیموں کے ان سابقین کو آٹھ ہزار روپے مشاہرہ بھی دیا جا رہا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستانی حکومت نے شدت پسند تنظیموں کی جنگجؤانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مذاکرات اور اس نوعیت کی دیگر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورحکومت میں نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ اسی طرح کا ایک منصوبہ پرویز مشرف کے دورحکومت میں بھی تیار کیا گیا تھا لیکن بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر اس پر عمل نہیں ہو سکا۔

’ہم نے طے کیا تھا کہ جو شدت پسند تائب ہونے پر راضی ہیں انہیں سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے، جو ملازمتیں چاہتیں ہیں اور اس کے قابل ہیں انہیں نوکریاں دی جائیں اور جو اس قابل نہیں انہیں تعلیم اور تربیت دی جائے‘۔

بریگیڈیئر چیمہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدت پسند تنظیموں کی سکروٹنی کے بعد طے کیا تھا کہ صرف دس فیصد شدت پسند اپنی روش تبدیل کرنے پر رضامند نہیں ہوں گے۔ ’صرف دس فیصد ایسے لوگ تھے جن کے خلاف ہمیں طاقت استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ ان کی اکثریت اسلحہ رکھ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے تیار تھی‘۔

مشرف حکومت ایک اہم عہدیدار کے مطابق یہ منصوبہ صوبائی حکومتوں کی دیگر ترجیحات کے باعث زیر عمل نہیں آ سکا۔

اسی بارے میں