پانی کی نکاسی کب اور کیسے؟

سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سانگھڑ کا چالیس فیصد شہر پانی کا تالاب بنا ہوا ہے

سندھ میں طوفانی بارشوں کو ہوئے دو ماہ گزر گئے ہیں مگر شہروں سمیت ایک بڑا رقبہ اب بھی زیر آب ہے، اس پانی کی نکاسی کب ہوگی اور معمولات زندگی کب بحال ہوں گے اس کا واضح جواب حکام کے پاس بھی نہیں۔

نواب شاہ سانگھڑ اور میرپورخاص سمیت بدین کے کئی چھوٹے بڑے شہر گزشتہ ایک ماہ سے زیر آب ہیں، جن سے پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے مگر پانی کی سطح صرف چند انچ کم ہوسکی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ نوابشاہ سے پانی کی نکاسی کے لیے مشینیں لگادی گئی ہیں۔ مقامی صحافی ذوالفقار خاصخیلی نے بتایا ہے کہ یونین کاؤنسل ون اور ٹو میں ایک سے دو فٹ پانی موجود ہے جہاں سے پانی کی نکاسی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق اس علاقے کی تیس ہزار سے زائد آبادی مشکلات کا شکار ہے۔

نوابشاہ سے پانی کا رخ سانگھڑ کی طرف ہے جہاں سول ہپستال اور ضلعی کچہری سمیت چالیس فیصد شہر پانی کا تالاب بنا ہوا ہے۔

گزشتہ روز سے انتظامیہ نے شہر سے پانی کی نکاسی کے لیے دس پمپ لگائے ہیں جن سے شہریوں کو یہ امید ہوچلی ہے کہ اب پانی کی نکاسی میں کچھ تیزی آئےگی۔

مقامی زمیندار سلیمان خاصخیلی کا کہنا ہے کہ ’ضلع کے باقی علاقوں سے پانی کی نکاسی میں وقت لگے گا۔ پانی کی نکاسی کا واحد راستہ سیم نالہ ہے جس میں گنجائش سے زیادہ پانی موجود ہے، اس نالے کو بھی کئی مقامات پر شگاف پڑے ہوئے ہیں‘۔

ان کے مطابق جس طرح سے پانی کھڑا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شہر کے علاوہ دوسرے علاقے سے پانی کی نکاسی ایک دو ماہ میں ممکن نظر نہیں آتی اگر اس وقت میں پانی نکل بھی جاتا ہے تو زمینیں سیم زدہ ہوجائیں گی اور ان میں آئندہ چھ ماہ تک کاشت نہیں ہوسکے گی۔

نوابشاہ سانگھڑ اور میرپورخاص سے خارج کیے جانے والے پانی کا رخ ساحلی ضلع بدین کی جانب ہے، جہاں زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہے اور بالائی اضلاع سے پانی کی مسلسل آمد جاری ہے۔

بدین کے زمیندار خادم تالپور کا کہنا ہے کہ پانی کی نکاسی کے راستے ایل بی او ڈی سیم نالے نے بند کردیے ہیں پانی نے جو اپنا راستہ بنایا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں سے پانی زیادہ مقدار میں خارج ہوسکے، ان کے مطابق پانی اوپر سے تو تیزی کے ساتھ آرہا ہے مگر اس کی نکاسی میں بہت وقت درکار ہوگا۔

خادم تالپور نے بتایا کہ سیم نالے میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ پانی ہونے کے باعث اس میں بدین سے نکاسی کا پانی سما ہی سکتا جس کی وجہ سے ہی ایک بڑا رقبہ اب بھی زیر آب ہے۔

صوبائی محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ سندھ کے متاثرہ نو اضلاع میں بارش سے بارہ ملین ایکڑ فٹ پانی موجود تھا جو تقریباً ساڑھ اکیس ہزار کلومیٹر علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔

سندھ ائریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احسان لغاری کا کہنا ہے کہ روزانہ بیس ہزار کیوسک پانی سمندر میں جا رہا ہے۔

’ ایل بی او ڈی سیم نالے سے بارہ سے پندرہ ہزار کیوسک پانی کی نکاسی ہو رہی ہے اور کوٹڑی سرفیس ڈرینیج سسٹم سے بھی چھ سے آٹھ ہزار کیوسک پانی سمندر میں خارج ہو رہا ہے اس کے علاوہ موسم بہتر ہے اور پانی بخارات میں بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ یہ ہی ہے کہ تقریباً اسی فیصد پانی دو ماہ تک نکل جائےگا‘۔

سندھ ائریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے ایم ڈی کا شہروں کے بارے میں خیال ہے کہ اگلے ماہ کے وسط تک وہاں سے بھی پانی کی نکاسی ہوجائے گی۔

اس بیان سے یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ دیہی علاقے تو دور کی بات ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں بھی معمولات زندگی ایک ماہ تک معطل رہیں گے۔