سو روپے کلو ، اسی روپے کلو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سبزیاں مہنگی ، اسی روپے کلو، سو روپے کلو

سو روپے کلو، نوے روپے کلو ،اسی روپے کلو، سبزیوں کی یہ قیمتیں سنتے سنتے سبزی کی دکان پر کھڑی ایک خاتون نے ٹینڈوں کی قیمت پوچھی تو سبزی فروش نے کہا پینتیس روپے،خاتون کے کھنچے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ آئی لیکن اگلے ہی لمحے دکان دار نے اسے بتایا کہ پینتیس روپے پاؤ یعنی ایک سو چالیس روپے کلو اور یہ سن کر وہ خاتون بناء کوئی سبزی خریدے وہاں سے چلی گئیں۔

پاکستان میں آج کل سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کے سبب کم آمدنی والے لوگ جو پہلے ہی اپنی غذائی ضروریات مشکل سے پورا کر پاتے ہیں مزید مشکلات کا شکار ہیں۔

لاہور میں سبزی کے درآمد کنندہ چوہدری خلیل بھٹی سبزیوں کی قلت اور اس کمی کے نتیجے میں قیمتوں میں بے حد اضافے کی وجہ صوبہء سندھ میں آنے والے سیلاب کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہء سندھ میں تو نوے فیصد سبزیاں سیلابی پانی میں بہہ گئیں جبکہ صوبہء پنجاب میں بھی ضرورت سے زیادہ بارشوں نے ستر فیصد سبزیوں کو خراب کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ سبزی پاکستانیوں کی خوراک کا اہم حصہ ہے اس لیے اس کی طلب زیادہ ہے۔ طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کے سبب آج کل سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔

جہاں صوبہء سندھ میں ہونے بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچائی اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اسی سیلاب نے فصلوں اور سبزیوں کو بھی تباہ کر دیا جو سبزیوں میں موجودہ گرانی کی بڑی وجہ ہے۔

چوہدری خلیل نے کہا کہ ابھی تک تو ملک میں پیدا ہونے والی سبزیوں سے ہی گزارہ کیا جا رہا ہے اور صرف ٹماٹر ہمسایہ ملک بھارت سے درآمد کیا جا رہا ہے لیکن لگتا ہے کہ جلد ہی دوسری سبزیاں بھی بھارت اور ایران سے منگوانی پڑیں گی۔

پاکستان میں پیاز سالن کا بنیادی جز ہے اور غریب آدمی کے بارے میں تو یہ تک کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پیاز کے ساتھ روٹی کھا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں لیکن شاید جلد ہی یہ بھی اس کے بس میں نہ رہے سبزی کے درآمد کنندہ چوہدری خلیل بھٹی کہتے ہیں کہ اس موسم میں پیاز کی فصل بھی سندھ میں زیادہ ہوتی ہے لیکن سیلاب کے سبب یہ خراب ہو گیا اور اب پندرہ اکتوبر سے دسمبر تک پیاز کی بھی شدید قلت ہوگی اور جس کے سبب پیاز درآمد کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ درآمد کیے جانے والے پیاز پر اٹھارہ فیصد ٹیکس ہے جس سے اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ پیاز کی قیمت ستر روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

چوہدری خلیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمد کیے جانے والے پیاز پر ٹیکس ختم کر دینا چاھیے تاکہ اس کی قیمت کچھ تو کم ہو۔

چوہدری خلیل سبزی منڈی میں آڑھتی بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سبزی کی زیادہ کھپت سے ان کا منافع زیادہ ہوتا ہے اور جب قیمتیں زیادہ ہوں تو کھپت میں کمی آتی ہے اور ان کی آمدنی بھی متاثر ہوتی ہے

سبزیوں کی گرانی نے سبزی فروشوں کو بھی مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ سبزی فروش محمد نواز نے بتایا کہ سبزیوں کی قلت اتنی ہے کہ انہیں بہت سویرے بلکہ یوں کہیے کہ آدھی رات کو تین بجے اپنی دکان کے لیے سبزیاں خریدنے کے لیے منڈی جانا پڑتا ہے اور اگر دیر ہو جائے تو سبزی کی قلت کے سبب خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔

محمد نواز کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی قیمت میں اضافے کے سبب جو لوگ پہلے کئی کلو سبزی لے کر جاتے ہیں اب ان کی قوت خرید بس پاؤ بھر کی ہے جس سے سبزی فروشوں کی آمدنی بھی متاثر ہوتی ہے۔

اسی دکان پر سبزی خریدنے کے لیے آئی ہوئی ایک خاتوں بیگم اسد کہتیں ہیں کہ سبزی خریدنا تو اب کھاتے پیتے لوگوں کے لیے بھی مشکل ہو گیا ہے اور سبزی لینا جو کبھی ان کے لیے مشکل نہ تھا اب وہ خریدتے ہوئے کئی بار سوچتی ہیں۔