اے پی سی، متفقہ قرار داد کا متن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں جمعرات کو منعقد ہونی والی کُل جماعتی کانفرنس میں شریک سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر تیرہ نکاتی قرار داد منظور کی ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق قرار داد کا متن درج ذیل ہے۔

  • ایک امن پسند ملک کی حیثیت سے پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ خودمختار برابری، باہمی مفاد اوراحترام پر مبنی دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کے قیام اور انہیں برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
  • کل جماعتی کانفرنس نے یہ ادراک کیا کہ امن اور مفاہمت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نئی سمت اور پالیسی ہونی چاہیے۔ فوری طور پر ’امن کو موقع دیا جائے‘ کو رہنما مرکزی اصول ہونا چاہیے۔
  • امن کے لیے پاکستان کو قبائلی علاقوں میں اپنے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے اور اس ضمن میں مناسب طریقہ کار واضع کیا جائے۔
    • ہمیں افغانستان کے ساتھ ترجیحی بنیاد پر تین سطحوں پر، حکومت سے حکومت، ادارہ جاتی اور عوامی سطح پر دو طرفہ بردارانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
      • اے پی سی نے پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز بالخصوص خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے عوام کی قربانیوں کااعتراف کیا۔عالمی برادری کو ان بے مثال قربانیوں اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کوتسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔
        • پاکستان اپنی خود کفالت کو جامع اندازمیں بڑھا سکتا ہے۔امداد نہیں تجارت آگے بڑھنے کا واضح راستہ ہونا چاہیے۔ ہمیں داخلی معیشت اور ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ وسائل متحرک کرنے اور بدعنوانی کو روکنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
          • پاکستان کی خودمختاری اور اس کی علاقائی سالمیت کادفاع ایک مقدس فریضہ ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
            • قومی مفادات مقدم ہیں اور ان کی رہنمائی میں پاکستان کی پالیسی اور ہمہ وقت تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔
              • اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر استحکام اور امن کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
                • پارلیمنٹ کی اس سے پہلے کی تمام متفقہ قرار دادوں اور قومی سلامتی کے بارے میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔
                  • کل جماعتی کانفرنس نے پاکستان کے خلاف حالیہ بیانات اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا۔ان بیانات میں کوئی وزن نہیں اور یہ شراکت داری کی اپروچ کی توہین ہے۔
                  • پاکستانی قوم قومی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کو شکست دینے میں پاکستان کی مسلح افواج سے بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔
                    • پہلے کی قراردادوں اور اس قرارداد پر عملدرآمد کے جائزہ کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس پر پیش رفت سے ماہانہ بنیاد پر عوام کو آگاہ کیا جائے۔

                    اسی بارے میں