قادیانی سکول ٹیچر قتل

Image caption گزشتہ برس لاہور میں قایانیوں کی مسجد پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا

شیخوپورہ کے نواحی گاؤں ڈیرہ گولیانوالہ میں جماعت احمدیہ کے رکن مقامی سکول ٹیچر کو نامعلوم افراد نے سکول میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے کہا ہے کہ سکول ٹیچر دلاور حسین کو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دلاور حسین کوئی ڈیڑھ برس قبل ہی جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے اور اکثر مقامی افراد سے بحث و مباحثہ کرتے تھے۔

ان کے اپنے بھائیوں اور دیگر قریبی عزیز واقارب نے ان کے خلاف مقامی مولویوں سے ان کے قتل کے فتویٰ لے رکھے تھے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سنیچر کی دوپہر بارہ بجے وہ معمول کے مطابق مقامی سرکاری سکول میں بچوں کو پڑھا رہے تھے کہ دو مسلح افراد نے سکول میں داخل ہوکر ان پر فائرنگ کردی۔

ترجمان کے مطابق بیالیس سالہ استاد زخمی تڑپتے رہے لیکن کسی نے انہیں نہیں اٹھایا بعد میں ان کے بیٹے نے گھر سے آکر انہیں اٹھایا اور ہسپتال لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

جماعت احمدیہ کے اراکین کو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا بعد میں سنہ انیس سو چوراسی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں جماعت احمدیہ کے کارکنوں پر مزید پابندیاں لگائی گئیں۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو چوراسی کے بعد سے اب تک جماعت احمدیہ کے کوئی دوسو دس کارکنوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دنوں بھی وسیع پیمانے پر جماعت احمدیہ کے کارکنوں کے واجب القتل ہونے کے بارے میں فتوے جاری ہورہے ہیں جن کا حکومت کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔