’پاکستان کا ساتھ دینے پر سوچیں گے‘

Image caption تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے اس قسم کا بیان پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے واشگاف الفاظ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ اگر موجود حالات میں امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا تو وہ آنکھ بند کرکے پاکستان کا ساتھ نہیں دیگی بلکہ وہ اس بات کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریگی۔

تنظیم نے پہلی مرتبہ پاکستان کا افغانستان میں پالیسی کو ’ دوغلی’ قرار دی ہے اور اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

یہ بات تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے سنیچر کو بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتائی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک دوسرے کا اتحادی ہے لیکن پھر بھی دونوں ممالک اس جنگ میں ’ دھوکے’ سے ایک دوسرے کو مات دینا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق ’امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ امریکہ کو اس جنگ میں دھکیل کر اسے پھنسا دے یعنی دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ڈرامہ کررہے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر پہلے ہی امریکہ کی طرف سے حملے ہورہے ہیں لیکن پھر بھی اگر موجود حالات میں کوئی بڑی کاروائی ہوتی ہے تو تحریک طالبان ہرگز بغیر سوچے سمجھے پاکستان کا ساتھ نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ طالبان شوری کریگی کہ آیا انھیں امریکہ کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے یا نہیں۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد نے کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک میں ’ دوغلی’ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے وہاں حالات میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس سوچ کو وسعت نہیں دی جاتی کہ پڑوسیوں سے امن کے ساتھ رہا جائے اس وقت تک دونوں ممالک میں حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

نائب امیر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اسلامی ممالک سے اپنی افواج نکالے اور قبائلی علاقوں میں ڈرون کاروائیاں بند کردے تو ان کے خلاف حملے کم ہوسکتے ہیں۔

طالبان کمانڈر سے جب یہ سوال بار بار پوچھا گیا کہ پہلی مرتبہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے طالبان کے موقف میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور یہ کہ ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ان کو اب پڑوسی ملک افغانستان اور امریکہ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے تو اسکی انہوں نے سخت الفاظ میں تردید کی۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کالعدم تنظیم کی طرف سے اس قسم کا بیان سامنے آیا ہے جس میں امریکہ کے خلاف پاکستان کا ساتھ نہ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے یہ تنظیم اپنے بیانات میں امریکہ کے خلاف لڑائی کو ’ جہاد’ فرض عین سمجھتی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران پاکستان فوج نے اس تنظیم کے خلاف وزیرستان سے لے کر سوات تک کاروائیاں کی ہے جس سے اس تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے جبکہ ان کاروائیوں میں تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود سمیت کئی بڑے بڑے کمانڈر بھی مارے گئے ہیں۔

پاکستان الزام لگاتا رہا ہے کہ تحریک طالبان کے مختلف دھڑے پاک افغان سرحدی علاقوں کونڑ اور نورستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں جہاں سے وہ پاکستانی علاقوں باجوڑ ایجنسی ، دیر آپر، دیر لوئیر اور چترال کے اضلاع میں کاروائیاں کررہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کو مبینہ طورپر افغانستان اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم طالبان اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چند دوز قبل سرحد پار سے حملوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو ان حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں