پاکستان پر بات کے بجائے پاکستان سے بات کریں، زرداری

Image caption صدر زرداری کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان اپنے مشترکہ مقصد کو ضرور حاصل کریں گے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ ان کے ملک پاکستان کے ساتھ سنجیدہ بات چیت بحال کرے۔

پاکستانی صدر نے یہ بات سنیچر کے روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہی۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو پاکستان پر بات کرنے کے بجائے پاکستان سے بات کرنی چاہئے۔‘

پاکستانی صدر کے یہ خیالات امریکی صدر براک اوباما کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان حقانی کے جرائم پیشہ نیٹ ورک کے مسائل پر قابو پائے۔

اپنے مضمون میں صدر زرداری نے لکھا ہے کہ ’ ہم آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ حالانکہ ہمارے وسائل ہماری ذمہ داری سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘

’جب پاکستان تعاون چاہتا ہے تو ہماری طلب تجارت ہوتی ہے تا کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ ہمیں امداد نہیں چاہیے جو ہمیں معاشی طور پر باندھ دے۔‘

آصف زرداری نے اپنے مضمون میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعادہ کیا اور کہا کہ امریکہ اور پاکستان اپنے مشترکہ مقصد کو ضرور حاصل کریں گے۔

’ایسے میں جب پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک میں آنے والے سیلاب اور لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے جسیے مسائل سے نمٹ رہا ہے اس کا قریب ترین سٹریٹیجک اتحادی اُس سے مذاکرات کرنے کے بجائے اُس کے بارے میں باتیں کر رہا ہے۔‘

’ایک طرف ہم قدرت کے وار سہہ رہے ہیں دوسری جانب دوستوں کے۔‘

صدر زرادی نے لکھا کہ ’گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد پاکستان میں تیس ہزار معصوم شہریوں نے جانیں گنوائیں، پانچ ہزار فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے اور آج امریکہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

گزشتہ ہفتے امریکی فورسز کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان کی انٹیلیجنس سروس پر حقانی نیٹ ورک کی پُشت پناہی کا الزام عائد کیا تھا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زردای نے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔

اسی بارے میں