حملہ آور کی جامہ تلاشی نہیں ہوئی ، الزام بے بنیاد ہے‘

پاکستان کی حکومت نے افغان وزیر داخلہ کی طرف سے آئی ایس آئی کے افغان سابق صدر برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

پاکستان کے وزارِت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پروفیسر ربانی پاکستان کے ایک درینہ دوست تھے اور پاکستان میں ان کی بہت عزت کی جاتی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پروفیسر ربانی نے پاکستان میں ایک عرصے تک قیام کیا تھا اور پاکستان میں ان کے بہت سے دوست موجود تھے۔

پاکستان کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کو اس حوالےسے جو ثبوت مہیا کیا گیا ہے دراصل وہ ایک افغان شہری حمید اللہ اخوندزادہ کا اقبالی بیان ہے۔ حمید اللہ اخوندزادہ مبینہ طور پر پروفیسر ربانی کے قتل کی سازش تیار کرنے والا شخص ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو فراہم کیے گئے شواہد کا حکام جائزہ لیں گے۔

تاہم ترجمان نے اس بات کی نشاندھی کی کہ افغان وزیرِ داخلہ نے ان حقائق کو نظر انداز کیا ہے کہ پروفیسر ربانی پر خود کش حملہ کرنے والا اور اس کا نگران کافی عرصے سے قندہار اور کابل میں گھوم پھر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان وزیرِ داخلہ نے اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہا کہ حملہ آوور چار دن تک پیس کونسل کے گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر رہا۔ اس گیسٹ ہاؤس کا انتظام ربانی کے قریبی لوگوں کے ہاتھوں میں تھا۔

ترجمان نے کہا کہ خود کش حملہ آور کی جامہ تلاشی بھی نہیں لی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقائق بھی اس اقبالی بیان میں موجود ہیں جو پاکستان کے حوالے کئے گئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغان وزیر داخلہ کا بیان اس لیے بھی قابل افسوس ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہلے ہی اس قتل کی تحقیقات میں پورے تعاون کی پیش کش کر چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان پر الزامات لگانے کے بجائے کابل میں ارباب اختیار کو پوری سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ امن کے خواہشمند اور پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے لوگوں کو کیوں ایک ایک کر کے ختم کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان خفیہ اداروں اور سکیورٹی ایجنسیز نے جو رخ اختیار کر لیا ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بیان کے آخر میں ترجمان نے پروفیسر برہانی الدین ربانی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں شہید قرار دیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسی بارے میں