’حکومت کو عوام کی داد رسی کرنا ہوگی‘

Image caption سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی نکاسی میں مزید دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نکاسیِ آب میں وقت لگنے کے باعث مقامی لوگوں کے لیے روز گار کے حصول کے ذرائع مسدود ہو جائیں گے لہذا حکومت کو عوام کی داد رسی کرنا ہوگی۔

سندھ کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بارش تھمنے کے ایک ماہ بعد بھی کئی فُٹ پانی کھڑا ہے اور وہاں شہری زندگی اب بھی مفلوج ہے۔

علاقے میں زیر کاشت اراضی مکمل طور پر زیر آب ہے اور وہاں سے پانی کی نکاسی میں دو ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ درکار ہے اسی لیے رواں برس ان علاقوں میں گندم کی فصل کاشت نہیں کی جاسکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے باشندوں کا روزگار بحال ہونے کا آئندہ چند ماہ تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا اور عوام کو حکومت کی مدد پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔

پانی کی نکاسی کب اور کیسے؟

سندھ میں سیاسی بنیادوں پر امداد

اس بارے میں قدرت آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال نے بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ جب تک لوگ معاشی طور پر بحال نہیں ہوجاتے ان کی امداد جاری رکھی جائے کیونکہ متاثرہ اضلاع میں کھڑے پانی کے مکمل اخراج میں دوماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو لوگوں کو خوراک کی فراہمی جاری رکھنا ہوگی، اس کے علاوہ علاقے کی زمین اس کے بعد بھی اس قابل نہیں ہوگی کے وہاں گندم کی کاشت کی جاسکے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کا سب سے اہم ذریعہء معاش میسّر نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس خوراک وافر مقدار میں موجود ہے کیونکہ اس سال پاکستان میں خریف کی فصل اچھی ہوئی ہے اور اس وقت خوراک ضرورت سے زیادہ ہے اس لیے عالمی اداروں سے خوراک کی نہیں بلکہ خیموں، ادویات اور دیگر امدادی اشیاء کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کا اندازہ ہے کہ اب بھی دس لاکھ خیموں کی ضرورت ہے جب کہ تین لاکھ خیمے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

اگست کے آغاز میں شروع ہونے والی بارش کے بعد آنے والے تباہی پر این ڈی ایم اے کے سست ردِ عمل پر ان کا کہنا تھاکہ این ڈی ایم اے ایک مرکزی ادارہ ہے جس کا کام صوبائی اداروں کی مدد کرنا ہے خود آپریشن کرنا نہیں، تاہم بارش کے بعد کئی اضلاع میں این ڈی ایم اے نے سپلائی چین بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جو آج بھی جاری ہے۔

ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ انہوں نےعالمی اداروں سے جن میں اقوام متحدہ، عالمی بینک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک شامل ہیں درخواست کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں آنے والی تباہی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی ضروریات کا سروے کریں اور اکتیس اکتوبر تک اپنی رپورٹ دے دیں۔

اس رپورٹ میں بارش اور سیلاب سے آنے والی تباہی اور اس کی وجوہات کا جائزہ لے کر اس کے تدارک کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ یہ ادارے ہر ضلعے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگائیں گے اور حکومت کو بتائیں گے کہ عوام کے نقصان کا ازالہ کیسے کیا جائے۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال نے کہا کہ عالمی سطح پر آنے والی موسمی تبدیلی کی وجہ ہمیں اس خطے کے لیے طویل المعیاد منصوبہ بندی کرنا ہوگی کیونکہ ماہرین کاخیال ہے کہ اس خطےمیں آئندہ پندرہ سے بیس سال تک ایسی یا اس سےکچھ کم شدت کی بارشیں ہوں گی، اسی لیے ان علاقوں میں طویل المعیاد منصوبہ بندی اور ان منصوبوں کے لیے خطیرسرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ مزید تباہی سےبچا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ علاقوں کی معیشت کو سب سے بڑا دھچکا بڑی تعداد میں جانوروں کی ہلاکت سے پہنچا ہے جو اب تک کے حکومت کے اندازوں کے مطابق ایک لاکھ کے قریب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں پہلے انسانی جان کی اہمیت ہوتی ہے اسی لیے کئی علاقوں میں جانور بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے بتایا کہا کہ حکومت نے پاکستان کارڈ کا اجراء شروع کردیا ہے جس سے عوام کی مشکلات میں کچھ کمی ضرور ہوگی۔

اسی بارے میں