حقانی: میڈیا کے میدان میں سرگرم

Image caption سراج الدین حقانی نے کہا کہ وہ افغانستان میں سوویت حملے کے بعد سے آئی ایس آئی سے رابطے میں نہیں ہیں

طالبان کے سب سے زیادہ متحرک اور فعال گروہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی عسکری میدان کے ساتھ ساتھ میڈیا کے میدان میں بھی کافی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں اور بی بی سی سے قبل وہ دو انٹرویو رائٹرز کو بھی دے چکے ہیں۔

کہاں صحافی سالوں سے ان کا انٹرویو کرنے کے لیے سرگرداں اور کہاں وہ آج کل خود یکے باد دیگر مختلف صحافتی اداروں کے سوالات کے جواب دیتےملتے ہیں۔ ان انٹرویوز کو آپ انتہائی اہم ہونے کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن دوسری جانب اس سے آپ معاملے کی سنگینی کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔

’ربانی کے قتل میں ملوث نہ آئی ایس آئی سے رابطے‘

چھوٹی موٹی باتوں پر بیان دینے کے لیے طالبان کے باضابطہ ترجمان مقرر ہیں جو یہاں واقعہ ہوا وہاں ذمہ داری قبول کر لی لیکن پہلے امریکہ اور پھر افغانستان کے پاکستان پر تابڑ توڑ حملوں نے چونکہ صورتحال کو کافی سنگین رخ پر ڈال دیا ہے تو حقانی نیٹ ورک بھی میدان میں آگیا ہے۔ اس کا بڑا مقصد بلاشبہ کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

حالات صرف حقانی نیٹ ورک کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرناک ہوگئے تھے۔ پاکستان کی جانب سے حقانیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں امریکہ نے یکطرفہ کارروائی کی دھمکی تک دے دی تھی جس کی وجہ سے پاکستان اور حقانی نیٹ ورک دونوں مشکل میں پڑ گئے تھے۔

بعض لوگ تو اسے یہاں حقانی نیٹ ورک سے زیادہ پاکستان اور خصوصاً خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ شاید حکومتِ پاکستان یا آئی ایس آئی کا اگر کوئی بیان اس مسئلے پر سامنے آتا تو وہ بھی لگ بھگ اسی قسم کا ہوتا۔ بظاہر حقانی صاحب اپنے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی ان بیانات کے ذریعے مدد کر رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ماضی میں بھارت کی جانب سے حملے کی دھمکی کی صورت میں بعض قبائلی خود بخود میدان میں کود کر دفاعِ پاکستان کا عہد دوہراتے تھے۔

وضاحت کی ضرورت کیوں پڑی؟

Image caption برہان الدین ربانی کو بیس ستمبر کو ان کے گھر میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

افغان حکومت کے الزام مصالحتی کونسل کے سربراہ اور سابق صدر براہان الدین ربانی کے قتل میں اب تک جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں زیادہ شک تو پاکستان اور طالبان کی مبینہ کوئٹہ شوری پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حقانی نیٹ ورک کی بات نہیں کی جو کہ کافی تعجب انگیز ہے۔

لیکن لگتا یوں ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو خدشہ ہے کہ ہر بات آج کل گھوم پھر کر انہیں پر آجاتی ہے تو بظاہر انہوں نے قبل از وقت وضاحت کر کے بات ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی حلقے بھی کہتے ہیں کہ ربانی کے قتل میں حقانی نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے اشارے نہیں ملے ہیں۔

ویسے مبینہ کوئٹہ شوری میں بھی حقانی نیٹ ورک کی نمائندگی بتائی جاتی ہے تو براہ راست نہ سہی گھوم پھر کر انہوں نے اپنے حد تک اپنی وضاحت ضرور کی ہے۔

کیا وضاحتیں قابل قبول ہوں گی؟

ہرگز نہیں۔ ایک دوسرے کی بات سنتے کہاں ہیں۔ کم ہی کسی فریق نے دوسرے کی بات پر اعتماد کیا ہے۔ لیکن یہ وضاحت حکومتوں کا دباؤ ختم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ عام لوگوں تک بھی اپنا موقف پہنچانے کی بھی کوشش ہے۔ وہ ان کے لیے زیادہ اہم ہے تاکہ لوگوں میں ان کے ہم خیالوں میں ان کی حمایت کم نہ ہو۔

امریکہ ویسے ہی اب بیک فٹ پر دکھائی دیتا ہے جبکہ افغان زیادہ غصے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کا خطرہ مول لینے کی کسی صورت حالت میں نہیں ہے۔

حقانی نیٹ ورک کی وضاحت کا تاہم ایک تسلی بخش عنصر یہ ہوسکتا ہے کہ ماہرین کے وہ اندازے یقیناً غلط ثابت ہوئے ہوں گے جو کہہ رہے تھے کہ کابل میں حالیہ کامیاب حملوں کے نتائج پر حقانی نیٹ ورک جشن منا رہا ہوگا۔ ان ماہرین کا خیال تھا کہ حقانی نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے۔ حملہ بھی کیا اور اس کے نتیجے میں اتحادیوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کر کھڑا بھی کیا۔ لیکن اگر وضاحت درست ہے تو پھر ان کا ہاتھ اس میں نہیں ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حقانی نیٹ ورک ملوث نہیں تو کون ہے اس کے پیچھے؟ شاید وہ لوگ جو پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان خوشگوار تعلقات کے خواہاں نہیں ہیں۔ ایسے ایک نہیں شاید کئی عناصر ہیں۔ خود طالبان امیر ملا محمد عمر نے مذاکرات کی آج تک مکمل مخالفت کی ہے لیکن ان ممالک کے ساتھ ’ابتدائی‘ رابطوں کو نہیں روکا تھا۔

اسی بارے میں