توانائی بحران:’ایندھن کی فوری فراہمی کا فیصلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کو ایندھن کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ بجلی کی پیداوار میں جلد از جلد اضافہ کیا جا سکے۔

بجلی کے سنگین ہوتے بحران کے نتیجے میں ملک بھر میں گزشتہ دو روز سے عوامی احتجاج کے پیش نظر وزیراعظم ہاؤس میں پیر کو اس مسئلے پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اس خصوصی ہنگامی اجلاس میں خزانہ، پانی و بجلی اور پٹرولیم کے محکموں کے وفاقی وزرا اور منصوبہ بندی کمیشن کے حکام نے شرکت کی۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق تین گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو تیل کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے تیل فراہم کرنے والے سرکاری ادارے پی ایس او کو فوری ادائیگی کی جائے۔

Image caption پاکستان میں توانائی کا بحران کافی عرصے سے جاری ہے تاہم گزشتہ چند روز میں ایک بار پھر اس میں شدت آئی ہے

وزیراعظم کے بیان کے مطابق اجلاس کے دوران ملک کے دو بڑے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کیپکو اور حبکو کو ایندھن کی بلا روک فراہمی کی ہدایت جاری کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں یونٹ ایندھن کی مطلوبہ مقدار ملنے پر دو ہزار میگا واٹ بجلی مزید پیدا کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی بچت کے لیے بھی ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی اور اس سلسلے میں وزارت پانی و بجلی کو ہدایت دی گئی کہ صوبوں کے ساتھ اس بارے میں فوری مشاورت شروع کی جائے۔

اجلاس میں توانائی کے بحران پر کابینہ کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔

پاکستان میں بجلی کی کمی خاصی سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی پیدوار اور استعمال میں فرق ساڑھے چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی ملک کا پہیہ چلانے کے لیے جتنی بجلی درکار ہے اس کا ایک تہائی پیدا کیا جا رہا ہے۔

اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ملک میں اوسطاً آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بعض بڑے شہروں میں یہ لوڈشیڈنگ بوجہ کم کی جاتی ہے اور یہ کمی چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے پوری کی جا رہی ہے۔ اسی بِنا پر ملک کے بعض علاقوں سے بارہ سے چودہ گھنٹوں اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ وقت کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں تیل سے بجلی بنانے والی نجی کمپنیوں یا آئی پی پیز کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی ادائیگیاں روک رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ تیل نہیں خرید پا رہے اور یوں بجلی اپنی صلاحیت کے مطابق پیدا نہیں کر پاتے۔

نجی بجلی گھروں کی تنظیم کے ترجمان عبداللہ یوسف اس صورتحال کی وضاحت کرتے کہتے ہیں کہ اگر تیل کی بلا تعطل فراہمی ہو سکے تو نجی بجلی گھر تین ہزار میگا واٹ بجلی مزید پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

’اس وقت ہم پانچ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔اگر ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہو جائے اور ہم تیل اور گیس خریدنے میں آزاد ہوں تو ہم اپنی صلاحیت کے مطابق آٹھ ہزار میگا واٹ بجلی فوری پیدا کرسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں