لوڈ شیڈنگ پر قومی اسمبلی میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption قومی اسمبلی میں احتجاج کے علاوہ لاہور پر پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کی شام گئے اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) نے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر سید نوید قمر نے ایوان کو بتایا کہ پیر کو وزیراعظم نے توانائی کا بحران ختم کرنے کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں گیارہ ارب روپے فوری جاری کرنے کی منظوری دی ہے اور آئندہ چوبیس سے چھتیس گھنٹے کے اندر بجلی کی صورتحال بہتر ہوگی اور ‘نارمل شارٹیجز’ والی پوزیشن بحال ہوگی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کافی عرصہ بعد میاں نواز شریف نے پارلیمان کا رکن نہ ہونے کے باوجود پارلیمان میں اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور فیصلہ کیا کہ وہ ایوان کے اندر حکومت کے خلاف توانائی کے بحران کے حوالے سے جارحانہ رویہ اپنائیں گے۔ اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے تمام اراکین بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر آئے۔

نوید قمر نے بتایا کہ نجی بجلی گھروں حبکو اور کیپکو کے علاوہ چشمہ نیوکلیئر سے بھی بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔ ان کے بقول چشمہ نیوکلیئر 1 ریفیولنگ کی وجہ سے بند ہے جبکہ چشمہ 2 فنی خرابی کی وجہ سے ٹرپ کرگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ کے قریب نندی پور بجلی گھر کا معاملہ طے پاگیا ہے اور کراچی سے مشینری روانہ کردی گئی ہے اور امید ہے کہ آئندہ سال کے وسط تک یہ بجلی گھر پیداوار شروع کردے گا۔

وزیر نے بتایا کہ قومی اسمبلی یہ طے کرے کہ گیس کی ترجیحی بنیاد پر فراہمی فرٹیلائیزر انڈسٹری کو کرنی ہے یا توانائی کے شعبے کو۔ ان کے بقول جس شعبے کو گیس ملے گی تو دوسرے شعبے کو مراعات دینی ہوں گی۔

اس موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہوں نے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی ہے جو مستقل بنیاد پر توانائی کے شعبے کا بحران حل کرنے اور ‘سرکیولر ڈیٹ‘ کا معاملہ حل کرے گی۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان نے حکومت پر نااہلی اور کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت بھتہ لیتی ہے اور بدعنوان افسران کو مختلف اداروں کا سربراہ لگایا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جس علاقے کے لوگ بجلی چوری کرتے ہیں اور بل ادا نہیں کرتے ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بڑھائی جائے اور جو بل ادا کرتے ہیں ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔

انہوں نے کرائے کے بجلی گھروں کو بدعنوانی کی بڑی وجہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے مال بنانے کی خاطر یہ منصوبے شروع کیے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے حسب معمول صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے علامتی واک آؤٹ بھی کیا لیکن حکومت کے منانے پر وہ واپس آگئے اور قانون سازی میں حکومت سے بعد میں تعاون بھی کیا۔

متحدہ قومی موومینٹ کے فاروق ستار نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن انہوں نے خواجہ آصف کا نام لیے بنا بجلی چوری ہونے والے علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی تجویز پر کہا کہ بجلی کی چوری ختم ہونی چاہیے لیکن ٹیکس چوروں کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اٹھارہ اکتوبر تک جاری رہے گا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی منگل کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں