سیاست انسانیت پر حاوی

اصغر بروہی سانگھڑ شہر کے ایک کیمپ میں موجود ہیں جہاں خیراتی ادارے انہیں دو وقت کا کھانا فراہم کر رہے ہیں مگر زندگی کی ضرورت صرف یہاں تک محدود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر ضروریات کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔

’ایک بکری تھی جو بیچ ڈالی اور ان پیسوں سے سامان خریدا۔ جب تک گاؤں سے پانی نہیں نکلتا تب تک تو یہاں بیٹھے ہیں۔ کوئی کچھ دیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنا بندوبست کرتے ہیں۔‘

اصغر بروہی کو تو کیمپ میں جگہ مل گئی مگر ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ہزاروں لوگ کھانے اور سائبان کی سہولیات سے محروم ہیں۔ شادی لارج، کلوئی، ملکانی شریف، نئوں کوٹ اور پنگریو سمیت کئی علاقوں سے متاثرین بی بی سی کو ٹیلیفون پر اس کی شکایت کرتے ہیں۔

خوراک، صحت، بچوں اور خواتین کی فلاح اور بہبود کے شعبوں میں کام کرنے والے عالمی ادارے ہر روز صورتحال کی سنگینی کے بارے میں اپنی اعلامیے جاری کرتے ہیں لیکن وفاقی اور صوبائی حکومت کا کردار محدود نظر آتا ہے۔

سندھ میں نجی تحقیقی ادارے ’سینٹر فار پیس اینڈ سول سوسائٹی‘ کے سربراہ جامی چانڈیو سرکاری اور غیر سرکاری ادارے دونوں کی مانیٹرنگ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مدد کے لیے حکومت کسی شعبے میں بھی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔

ان کے بقول ’لوگوں کو کھانا، تنبو اور دوا میسر نہیں ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔ اس چیلنج سے حکومت نمٹ نہیں سکی۔ حکومت کو جس طرح کی ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنا چاہیے تھی، بین الاقوامی اداروں کو متحرک کرنا تھا ویسا کچھ نہیں کیا گیا۔ آفت کی جتنی شدت ہے حکومت کا جواب اس کے مقابلے میں کچھ نہیں۔‘

سندھ میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کا آُغاز ماہِ اگست سے ہوا جب خاص طور پر سندھ میں سیاسی گرما گرمی عروج پر تھی۔ تجزیہ نگار منظور میرانی کا کہنا ہے کہ سیاست انسانیت پر حاوی نظر آتی ہے حکومت مخالفین سے نمٹنے میں زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’پاکستان امریکہ کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی ادارے متاثرین کی مدد کرنے سے کترا رہے ہیں‘

’پہلے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پریس کانفرنس کی، میڈیا اور سیاست کا رخ اس طرف ہوگیا۔ جس کے جواب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے خطاب کیا، اس کے بعد حقانی نیٹ ورک معاملہ ابھرا جس کے پس منظر میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کی گئی۔ ان سارے معاملات میں متاثرینِ سیلاب کے مسائل دب کر رہ گئے ہیں۔‘

منظور میرانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھی متاثرین کی بین الاقوامی اداروں نے زیادہ مدد کی تھی۔ حقانی نیٹ ورک پر پاکستان امریکہ کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی ادارے متاثرین کی مدد کرنے سے کترا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر برائے قدرتی آفات اور بحالی مظفر شجرا ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت صحت، آبپاشی، زراعت اور رلیف کے شعبوں میں متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’ان تمام منصوبوں پر تقریباً اسی ارب رپے خرچہ آئے گا جس کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ اس میں کچھ حصہ ڈالے تاکہ صوبائی حکومت کا بوجھ کم ہوسکے۔ ہم نے پاکستان کارڈ کی تقسیم کا آغاز کردیا ہے۔‘

صوبائی وزیر کے مطابق متاثرین کو راشن اور کھانے پینے کا سامان فراہم کیا جارہا ہے۔ کیمپوں میں پکا پکایا کھانے فراہم کر رہے ہیں جہاں رسد ممکن ہے وہاں راشن فراہم کر رہے ہیں اور جہاں رسائی ممکن نہیں وہاں کشتیوں میں تقسیم کی جارہی ہے۔ بقول ان کے کوئی بھی شخص بھوک سے فوت نہیں ہوا۔ پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے بیماریاں ضرور پھیل رہی ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ عوام کا رسپانس بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ہی یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں