سانپ بھی گیا اور بین بھی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب سن اٹھانوے میں عمر کوٹ کی جوگی بستی میں سردار پھوٹو جوگی سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا تھا ’ابھی آپ تو ہمارے لئے ناگ بادشاہ ( کوبرا) کی طرح ہیں۔کیا خدمت کریں ؟ چائیں پلائیں ، بین بجاویں یا پٹاری کھولیں۔‘

مگر اب حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ جوگیوں نے استاد مصری کی قیادت میں پھوٹو کا تختہ یہ کہہ کر الٹ دیا کہ اس نے کوٹھے کی ایک بائی سے عشق اور پھر شادی کرکے جوگی سماج کی ناک کٹوا دی، لہذا حقہ پانی بند۔ اب سردار پھوٹو ایک کھولی میں شراب پیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے بات کرتا ہے۔ شاہ ایڈورڈ ہشتم ہو کہ سردار پھوٹو جوگی ، عشق سب کو دربدر کردیتا ہے۔

جب میں نے بارہ برس بعد ذوالفقار علی بھٹو کی عطا کردہ جوگی کالونی میں قدم رکھا تو گلاب جوگی سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگا آج ہی ہمارے بھگت آلو مہاراج کی بیوی کا انتقال ہوا اور آج ہی آپ بھی آگئے۔ باقی جوگی تو پنچائت میں بیٹھے ہیں ، آپ مجھ سے اینٹرو ( انٹرویو) لے لیں۔

میں نے کہا کہ بارشوں سے یہاں کوئی نقصان ہوا ؟ گلاب نے جواب میں تھیلے سے البم نکال لی ۔۔۔یہ تصویر شازیہ خشک کے ساتھ ہے۔۔اور یہ ڈی سی صاحب کے پھنگشن کی ہے اور یہ جب میں جرمنی گیا تھا۔۔۔میرے پاس منکہ بھی ہے۔۔۔ علاج بھی کرتا ہوں۔۔۔آپ کو کوئی جڑی بوٹی چاہئیے تو وہ بھی دکھاتا ہوں۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

میں فوراً سمجھ گیا کہ زمانے نے سادہ لوح جوگیوں کو بھی کارپوریٹ انجکشن لگا دیا ہے۔گلاب جوگی نے کہا کہ اگر آپ کو بارش کی معلومات کرنی ہیں تو پھر آپ مصری جوگی کی بستی میں جائیں وہ آپ کو صحیح بات بتائے گا۔

مصری جوگی کی بستی عمر کوٹ کے دوسرے کنارے پر ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو کالی ماتا کے مندر کے احاطے میں اور باہر بارش زدہ علاقوں کے کئی بے خانماں جوگی پلاسٹک کی شیٹوں اور گھانس پھونس کی عارضی جھونپڑیوں میں ریتیلی زمین پر بیٹھے تھے۔مگر استاد مصری نہیں تھا۔اس کے پینتیس سالہ بیٹے جمن فقیرنے بتایا کہ والد صاحب شہر گئے ہیں بس آدھے گھنٹے میں پہنچنے والے ہوں گے۔

جمن فقیر نے کہا کہ ’پچھلے ہفتے ہی کارونجھر کی پہاڑیوں سے کسی نے کوبرا پکڑ کر اسے بھیجا ہے۔اس علاقے میں کوبرا بہت کم ہوتے ہیں جب موسم بدلتا ہے تو سرحد پار ہندوستان سے آجاتے ہیں۔ یہ جھونپڑیاں جو آپ دیکھ رہے ہیں ان میں سانگھڑ ، میرپور خاص اور بدین سے آئے جوگی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اکثر کے پاس گھر تو کیا بین اور پٹاری بھی نہیں بچی۔ سانپوں کو دودھ پلانے کے لئے جو بکریاں رکھی تھیں ان میں سے بھی آدھی مرگئیں۔ جو سانپ پکڑے تھے وہ فرار ہوگئے اور لکیر تک نہیں چھوڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

میرے بابا جوگی ویلفئر ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور صرف سندھ میں دس ہزار جوگی اس کے ممبر ہیں۔اس کیمپ میں تین سو کے قریب خاندان رہ رہے ہیں۔ اب تک نا کوئی افسر آیا نا سیاسی آدمی۔ جس کے پاس بھی امداد لینے جاؤ کہتا ہے پہلے بین بجا کر سانپ دکھاؤ تاکہ پتہ چلے کہ تم لوگ بھکاری نہیں اصلی جوگی ہو۔

جب ووٹ لینے آتے ہیں اور ہمارے ننگے بچوں کو گود میں اٹھا کر فوٹو کھنچواتے ہیں تب نہیں پوچھتے کہ تم اصلی جوگی ہو یا دو نمبر۔ اب مصیبت آئی ہے تو سانپ کی طرح ماتھے پر آنکھیں رکھ لی ہیں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جیسے سانپ اپنے بچے کھا جاتا ہے ایسے ہی یہ افسر اور سیاسی لوگ غریبوں کا حق کھا جاتے ہیں۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ سانپ ہم سے اور ہم افسروں سے ڈرتے ہیں۔خدا کو مانو ، اپنا پیٹ بھی بھرو لیکن ہمیں بھی تو کچھ دو۔

جوگی مرتے مرجائیں گے پر بھٹو کا نام نہیں بھولیں گے جس نے ہمیں چھت دی۔ مگر آج سب سانپ کی طرح بہرے بنے پڑے ہیں۔ ابھی تو ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ دس ہزار جوگی اکھٹے کرکے حیدرآباد تک مارچ کریں اور پریس کلب کے سامنے سانپ چھوڑ دیں۔تب ان کے کان پر شائد کچھ اثر ہو۔

جمن فقیر کی گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ پتا ہی نا چلا کہ استاد مصری کب آگئے۔انہوں نے گلے ملتے ہوئے کہا آپ دو منٹ بیٹھو میں کاشٹیوم پہن کر آتا ہوں۔ پھر وہ گیروے رنگ کی پگڑی اور کرتا پہن کر آفیشل جوگی کے روپ میں نمودار ہوئے اور کچھ کہے سنے بغیر اپنی پریزنٹیشن شروع کردی۔

’سانپوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ۔نانگ ، بلا ، ڈمی ، سمی، کارو ، کبرو، دھوڑ ، واچھر ، کومبھا ، رو ، تلئر، کھونٹا ، کھیڑو ، پہاڑی، پدم ، خبردار ، ٹوکر ، ٹمئیا، گھوڑیا ، لنڈی ، کھپر ، پیہن۔۔۔ان میں سے بہت سے سانپ کھیتی باڑی پھیلنے سے غائب ہوگئے۔ابھی سینسی ( سائنسی) دور ہے اس لئے ہمارے بچے میٹرس ( میٹرک) اور بی اے کرکے ٹیلر ماشٹری ، ڈاکٹری ، گلوکاری اور ملازمت بھی کررہے ہیں۔آپ بتائیں کیسے تشریف لائے۔‘

میں نے اپنی بات کہنے کا موقع دینے پر استاد مصری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے صاحبزادے سے مجھے بارش زدہ جوگیوں کے بارے میں خاصی معلومات مل گئیں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ جوگی اپنے گھروں کو کب تک لوٹ سکیں گے۔

استاد مصری نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا ابھی میں امداد کے لئے ہی شہر گیا تھا کہ آپ کے آنے کی اطلاع مل گئی۔یقین کریں ایک ہفتے تک میں جیب سے انہیں کھانا کھلاتا رہا لیکن اب میرے پاس بھی دینے کو کچھ نہیں رہا۔افسروں نے ہمیں آج کل آج کل کرکے اتنے دوڑایا ہے جتنا سانپ بھی نہیں بھگواتا۔

صدر اور وزیرِ اعظم تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔یہاں کس کے آگے بین بجاویں ۔۔۔۔۔’’

چلتے چلتے استاد مصری نے ایک ڈبیہ تھما دی ۔میں نے پوچھا کیا ہے ؟ استاد نے آنکھ اور ہاتھ دباتے ہوئے کہا

جوڑوں وغیرہ کی مضبوطی کے لئے !!!!

اسی بارے میں