مسلم لیگ ق کے وزراء کے استعفے

Image caption چوہدری شجاعت حسین پارٹی کے سربراہ ہیں

وفاقی اور صوبہ سندھ کی حکومت میں کچھ عرصہ قبل ہی شامل ہونے والی جماعت مسلم لیگ ق کے وفاقی وزرا نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے استعفے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو بھجوا دئیے ہیں۔

وفاقی وزیر اور ق لیگ کے ایک اہم رکن فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی مسلم لیگ کے کارکنوں کے کام نہیں ہو رہے جس بنا پر ان کی جماعت کے وزراء نے اپنی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حیسن کو اپنے استعفے جمع کرا دیے ہیں۔

استعفوں کے ساتھ پارٹی وزراء نے پارٹی کے سربراہ کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے اربابِ اختیار سے بات کریں اور اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوششیں کریں۔ بصورتِ دیگر مسلم لیگ ق حکومت سے علحیدہ ہو جائے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اس امکان کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ق کی طرف سے حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی کے پیچھے کوئی اور سیاسی چال یا مقصد کارفرما ہو۔

مسلم ق نے استعفے دینے کی دھمکی ایک ایسے موقع پر دی ہے جب حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور گزشتہ روز ہی انھوں نے بجلی کے بحران پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا تھا۔ دوسری طرف پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں بھی لوڈ شیڈنگ پر پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے اور حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس وقت مسلم لیگ ق کی ایک اہم شخصیت مونس الہی کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور وہ جیل میں ہیں۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی نے بھی مسلم لیگ ق کی طرف سے اس اقدام کے بعد ایم کیو ایم سے رابطے کرنا شروع کر دیے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے۔

اسی بارے میں