شریفوں کے اثاثے واپس کریں: ہائی کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نواز شریف سابق صدر مشرف سے ایک معاہدہ کرکے ملک سے باہر گئے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نوازشریف کے خاندان کی جلاوطنی کے دوران ضبط کردہ اثاثے واپس کرے۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم شریف خاندان کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک ہی نوعیت کی سات مختلف درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے دیا۔

شریف خاندان کے افراد کی طرف سے یہ درخواستیں لگ بھگ ایک سال قبل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئیں تھی اور درخواست گزاروں میں وزیر اعلیْ پنجاب شہبازشریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز سمیت خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں۔

ان درخواستوں پر ابتدائی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں ہوئیں تاہم ججوں کی عدم دستیابی کے باعث یہ درخواستیں لاہور ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ پر منقتل کردی گئیں جہاں مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس خالد محمود خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان درخواستوں پر سماعت کی۔

کارروائی کے دوران سابق گورنر اور شریف خاندان کے وکیل شاہد حامد نے یہ موقف اختیار کیاکہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کو دو مختلف عدالتوں سے سزا ہونے پر سنہ دو ہزار ایک میں جواثاثے بھی ضبط کیے تھے وہ شریف خاندان کے ارکان کی ملکیت تھے۔

سابق صدر فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیب نے شریف خاندان ساڑھے گیارہ کروڑ روپے حصص ، دس کروڑ روپے کی نقدی اور مری میں دو پلاٹوں ، چودھری شوگر ملز ، رمضان شوگر ملز، حدیبہ انجنئرنگ سروسز اور حمزہ شپنگ کارپوریشن وغیرہ کے دستاویزات ضبط کیے تھے۔

شاہد حامد نےدلائل یہ قانون نکتہ اٹھایا کہ نیب کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ نواز شریف کو ملنے ولی سزا کی پاداش میں ان کے قریب رشتہ داروں کے اثاثے بھی ضبط کرلیتا۔

وکیل کے بقول نواز شریف کو عدالت نے جو سزا سنائی تھی وہ بھی ختم ہوچکی ہیں لیکن نیب شریف خاندان کی ضبط کردہ اثاثے واپس نہیں کررہا۔

شاہد حامد نے دلائل میں کہا کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پاس کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ شریف خاندان کے اثاثے اپنی تحویل میں رکھے۔

شریف خاندان کے ارکان کی درخواستوں میں یہ استدعا کی گئی کہ عدالت نیب کو یہ حکم دے کہ درخواست گزاروں کے ضبط کیے جانے والے اثاثے اور متعلقہ دستاویزات فوری طور پر واپس کیے جائیں۔

اس لیے نیب کے پاس شریف خاندان کے اثاثے اپنے پاس رکھنے کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے ۔

شاہد حامد نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ شریف خاندان کے ارکان کی ضبط کردہ اثاثے واپس کرے۔

اسی بارے میں