رستم سندھ کا قتل

ملھ پہلوان غلام سرور جتوئی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غلام سرور نے ستر کی دہائی میں کشتی کو بطور پیشہ اپنایا تھا

’رستمِ سندھ‘ کے خطاب سے مشہور ملھ پہلوان غلام سرور جتوئی فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

غلام سرور جتوئی خیرپور کے علاقے ببرلو میں دادن شاھ نامی بزرگ کے میلے سے اپنے شہر شکار پور جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔

ملھ سندھ میں کشتی کے روایتی مقابلے کو کہا جاتا ہے، اور اس کے کھلاڑی کو ملھ پہلوان پکارا جاتا ہے۔ غلام سرور کے والد قلب علی جتوئی کا شمار بھی انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سندھ کے مشہور ملھ پہلوانوں میں کیا جاتا تھا۔

عام طور پر سندھ میں ملھ پہلوان پڑھے لکھے نہیں ہوتے مگر غلام سرور گریجوئیٹ تھے اور دور طالب علمی میں سیاسی طور پر بھی سرگرم رہے ان کا رجحان قوم پرست سیاست کی جانب تھا۔

غلام سرور ملھ کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس میں جدت لانے کے حوالے سے مقامی سندھی اخبارات میں مضامین بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے ملھ کے بڑے مقابلوں میں سچل اور قلندر ایورڈ بھی جیتے اور کئی بار بیرن ملک کشتی کے مقابلوں میں بھی شرکت کی۔ وہ سندھ ملھ ایسو سی ایشن کے صدر تھے۔

غلام سرور نے ستر کی دہائی میں کشتی کو بطور پیشہ اپنایا۔ خیرپور کے صحافی منصور میرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ایک مرتبہ سرور نے بتایا تھا کہ ان کے والد جو خود بھی پہلوان تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ ملھ کے ساتھ تعلیم کو بھی جاری رکھیں اور افسر بن کر دنگل میں اتریں۔

سرور بتاتے تھے کہ ستر کی دہائی میں خیرپور ضلع میں رانی پور کے میلے میں اس وقت کے ابھرتے ہوئے ملھ پہلوان شمن شاہ آئے ہوئے تھے، جنہوں نے اپنی کمر سے بندھا ہوا کپڑا جسے سندھی زبان میں سندھرو کہا جاتا ہے سرور کے سامنے پھینکا جس کا مطلب چیلینج دینا سمجھا جاتا ہے۔

اس اچانک صورتحال پر سرور ہکا بکا رہ گئے تھے، انہوں نے رانی پور کے پیر میراں سائیں کی طرف دیکھا، جس نے سرور کو کہا کہ جاؤ سامنا کرو۔

بعد میں شمن شاہ نے سرور کو چت کردیا مگر اس واقعے کے بعد وہ باقاعدگی سے ملاکھڑوں ( کشتی کے مقابلے) میں شریک ہونے لگے۔

ہر جگہ شمن اور سرور کے مقابلے مشہور ہونے لگے جس میں کبھی شمن چت ہوتا تو کبھی سرور، دونوں پہلوانوں کو بزرگوں نے سمجھایا کہ وہ ہم پلہ پہلوان ہیں اس لیے ایک دوسرے کے سامنے دنگل میں نہ اترا کریں جسے دونوں نے تسلیم کرلیا۔

انیس سو چورانوے کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے میلے کے موقع پر سرور جتوئی نے پہلوانی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس کے بعد وہ کوچنگ کیا کرتے تھے، اس طرح ان کے شاگردوں میں اضافہ ہوا۔ قلندر شہباز، شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل کو سرمت کے میلوں میں پہلوان انہیں بطور کوچ لے جاتے تھے، یہ سلسلہ ان کی ہلاکت تک جاری رہا۔

خیرپور پولیس نے سرور جتوئی کے قتل کو قبائیلی تنازعے کا نتیجہ قرار دیا ہے، مگر سرور کے فرزند ریاض جتوئی اس کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد فقیر منش آدمی تھی جن کا اکثر وقت میلوں ملاکھڑوں میں گزرتا تھا۔

ریاض کے مطابق ان کے والد نے ملھ کو اپنا جنون بنایا ہوا تھا اور پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی، جس وجہ سے گھر کو وقت کم ملتا تھا مگر وہ ان سے مطمئن تھے۔

ریاض جتوئی کا کہنا ہے کہ ان کے والد ان کے دوست تھے، انہیں قتل کر کے سندھ کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے، اس کے ساتھ وہ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس قتل کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا حالانکہ یہ ’رستم سندھ‘ کا قتل ہے۔