کراچی بدامنی:’حکومتیں ناکام رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے محمکے کو سیاست سے پاک کیا جائے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کراچی میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق از خود نوٹس کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں امن وامان بحال کرنے کی بابت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل نو، چودہ، پندرہ، اٹھارہ اور چوبیس نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں اور وہاں کی عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہر میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی نگرانی کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائی جائے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت سے کہا کہ کراچی میں جن افراد کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فیصلہ سُناتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ پولیس کے محکمے کو سیاست سے پاک کیا جائے اس کے علاوہ استغاثہ کے محکمے میں بھی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر تقرریاں کی جائیں تاکہ بہتر استغاثہ کی وجہ سے اصل ذمہ داروں کے خلاف مضبوط مقدمات بنائے جاسکیں۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں فوری ججز کی تقرری کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی پولیس کے سربراہ اور ڈایریکٹر جنرل رینجرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں اور کراچی میں کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہونا چاہیے جو کسی بھی شخص کے لیے ’نوگو ایریا‘ قرار دیا جائے۔

عدالت نے کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کا بھی حکم دیا اور نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام سے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اسلحہ لائسنسوں کی جانچ پڑتال کریں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس از خودنوٹس کی سماعت کے دوران متعدد وکلاء نے متحدہ قومی موومنٹ پر اُنگلیاں اُٹھائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس از خونوٹس کی سماعت کے دوران پولیس کے محکمہ سپیشل برانچ کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی اُس میں ایم کیو ایم کے علاوہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور سُنی تحریک پر بھی بھتہ خوری کے الزامات عائد کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں فوری ججز کی تقرری کا حکم دیا۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سمیت کسی بھی جماعت پر پابندی عائد کرنا اُن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اور یہ کام وفاقی حکومت کا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اجمل پہاڑی کے مشترکہ تفتیشی ٹیم کو دیے جانے والے اقبالی بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُن کا تعلق نہ صرف ایم کیو ایم سے ہے بلکہ اُنہوں نے اٹھاون افراد کا قتل بھی کیا ہے اور وہ تربیت حاصل کرنے کے لیے بھارت بھی گئے تھے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وفاقی یا صوبائی حکومت نے اس بیان پر کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی اور اُس تنظیم یا جماعت کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے ساتھ ملزم اجمل پہاڑی کا تعلق تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سندھ پولیس کے سربراہ کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے دوران تین سو چھ افراد کو قتل کیا گیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف اس لیے مؤثر کارروائی نہیں ہو پا رہی کیونکہ صوبے کی تیس سے چالیس فیصد پولیس فورس سیاسی وابستگیاں رکھتی ہیں۔

عدالت نے کراچی میں غیر ملکیوں سے متعلق اپنے فیصلے میں سندھ پولیس کے سربراہ اور نادرا کے حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف موثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

اسی بارے میں