سیلاب:’لاکھوں بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقے صوبہ سندھ میں ہنگامی امداد کی کمی کی وجہ سے کم از کم تیس لاکھ بچوں میں غذائیت کی کمی اور بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔

امدادی تنظیم کی جانب سے کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی دو سو تینتیس ملین پاؤنڈ کی امدادی رقم کی اپیل کا محض نو فیصد اب تک اکھٹا ہوا ہے اور اگر مزید رقم اکٹھی نہ ہوئی توخدشہ ہے کہ لاکھوں افراد تک کھانے اور پینے کا صاف پانی نہیں پہنچ سکتا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرین سیلاب کو خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ آئندہ چند ہفتوں میں معطل ہو سکتا ہے جب کہ ایک تہائی متاثرین ایک ماہ کے اندر طبی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔

’حکومت کو عوام کی داد رسی کرنا ہو گی‘

’امداد میں تاخیر، بھوک سے مرنے کا خدشہ‘

ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پچپن لاکھ افراد متاثرہ ہوئے ہیں جب کہ اٹھارہ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سڑکوں کے کنارے، ریلوے لائنوں اور سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

سیو دا چلڈرن کے پاکستان میں سربراہ ڈیوڈ رائٹ کا کہنا ہے کہ متاثر ہونے والے بچے انتہائی مخدوش حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کے خاندان کے پاس خود کے لیے خوراک نہ ہونے کے برابر ہے، متاثرین کے خوراک کے ذخائر پانی میں بہہ چکے ہیں اور ان کے پاس خوراک خریدنے کے لیے رقم بھی موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی خاندانوں کو اب تک امداد نہیں مل سکی ہے اور ہم بچوں کو بچانے کے کام کر رہے ہیں لیکن امدادی کاموں کی بڑے پیمانے پر ضرورت ہے اور دنیا کو یہاں جو کچھ ہوا اس کا سامنا کرنا ہو گا اور وہ فنڈز کی کمی کو پورا کرے تاکہ امدادی ایجسنیاں لاکھوں متاثرین تک پہنچ سکیں۔

سیور سی چلڈرن کے مطابق بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تین سالہ مشتاق کا ضلع بدین میں واقع گاؤں پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور سات افراد پر مشتمل اس کا گھرانہ ایک سرکاری سکول میں پناہ لے ہوئے ہے۔

مشاق کے والد حنیف کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹا پیدائش کے وقت ہی کمزور تھا اور یہاں کیمپ میں آنے کے بعد اس کے وزن میں مزید کمی ہو گئی ہے اور وہ اپنی عمر کے بچوں کی طرح نہ کھیل کود کرتا ہے اور نہ ہی بولتا ہے، کیمپ میں طبی سہولیات موجود نہیں اور نہ ہی کیمپ میں ان کے خاندان کی ضرورت کے مطابق خوراک میسر ہے، جب وہ یہاں آئے تھے تو اپنے بیٹے کو ایک مقامی کلینک میں لے گئے تھے لیکن ڈاکٹر نے جو ادویات لکھ کر دی تھیں وہ بہت زیادہ مہنگی تھیں۔

اسی طرح گزشتہ ہفتے امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد میں تاخیر برقرار رہی تو متاثرین کی بھوک سے اموات شروع ہو جائیں گی جب کہ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے متاثرین کی امداد کے سرکاری ذخائر دس اکتوبر کو ختم ہوجائیں گے جبکہ متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی قریباً چھتیس کروڑ ڈالر کی درخواست کے جواب میں بھی صرف چھ فیصد حاصل ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں